Jun 10, 2021 04:55 pm
views : 224
Location : Domestic Place
Karachi- Special Report 8 major train accidents in 7 years
کراچی، پاکستان میں 7 سالوں میں ہونے والے 8 بڑے ٹرین حادثوں میں کتنی ہلاکتیں ہوئیں اور تحقیقاتی رپورٹس کا کیا بنا جانیے اس رپورٹ میں
پاکستان میں ریل گاڑیوں کے حادثات کا ایک تسلسل چلا آرہا ہے۔ بدقسمتی سے ہر ٹرین حادثہ جو پورے سسٹم کو ہلا کر رکھ دیتا ہے تب ہی اعلیٰ سطح کی انکوائری آرڈر کر دی جاتی ہے اور پھر اس کے نتائج پر کچھ افراد کو معطل کر دیا جاتا ہے۔
گزشتہ سات برسوں میں ہونے والے بڑے حادثات کی انکوائری رپورٹس پر ایک نظر ڈالی جائے تو جولائی 2015 میں پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کے قریب ایک ٹرین حادثے کا شکار ہوئی اور پٹری سے اتر کر نہر میں جا گری۔اس حادثے میں 20 افراد اپنی جان سے گئے۔نومبر 2016 میں کراچی کے علاقے لانڈھی میں دو ریل گاڑیاں فرید ایکسپریس اور بہاؤالدین زکریا ایکسپریس آپس میں ٹکرا گئیں جس کے نتیجے میں 21 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔تیسرا بڑا حادثہ جنوری 2017 میں پیش آیا جب لودھراں کے قریب ہزارہ ایکسپریس سے ایک رکشہ ٹکرا گئی جس سے چھ بچوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جولائی 2019 میں کوئٹہ جانے والی ٹرین پنجاب کے شہر صادق آباد میں ایک کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی جس کے نتجے میں 24 افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔اسی سال 2019 میں سب سے بڑا ٹرین حادثہ اکتوبر کے مہینے میں پنجاب کے شہر رحیم یارخان کے قریب تیز گام ایکسپریس کے ساتھ پیش آیا۔جس میں چلتی ٹرین کو آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں 75 افراد ہلاک ہوگئےفروری 2020 میں صوبہ سندھ کے علاقے روہڑی کے قریب ایک ٹرین بس سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 19 افراد ہلاک ہو گئے۔جولائی 2020 میں ایک ٹرین حادثہ ضلع شیخوپورہ میں بھی پیش آیا جب سکھ یاتریوں کی کوسٹر سے ایک ٹرین رفتار ٹرین ٹکرا گئی اور اس حادثے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 22 افراد ہلاک ہو گئے۔گزشتہ دو روز قبل بھی گھوٹکی میں دو ٹرینوں کے تصادم کے نتیجے میں 61 افراد موت کی آغوش میں چلے گئے۔
روایتی طور پر ہر وزیر ریلوے کی جانب سے ٹرین حادثات کی تحقیقات کا حکم دیدیا جاتا ہے جس کا برسہا برس کچھ نہیں ہوپاتا۔
گھوٹکی ٹرین حادثے پر بھی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی کی جانب سے ریل حادثے کی تحقیقات کا حکم دیدیا گیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرین حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف آخر کب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔