Jun 11, 2021 04:35 pm
views : 250
Location : Domestic Place
Islamabad- Shaukat Tarin unveils Rs 8,487 billion budget, increases
اسلام آباد، وفاقی حکومت نے آٹھ ہزار ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کردیا، دفاع کیلئے ایک ہزار تین سو ستر مختص،خسارے کا تخمینہ تین ہزار نو سو نوے ارب روپے ہوگا، اپوزیشن نے اجلاس میں شدید شور شرابا کیا
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے مالی سال دو ہزار بیس اکیس کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔وفاقی بجٹ کا حجم 8 ہزار 487 ارب روپے رکھا گیا ہے، خسارے کا تخمینہ 3 ہزار 990ارب روپے ہوگا، دفاع کیلئے 1370 ارب روپے اور قرضوں اور سود کی ادائیگی کیلئے 3 ہزار 60 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، کم سے کم تنخواہ 20 ہزار مقرر کی گئی ہے، پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزرا اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی موجود تھے۔ وزیرخزانہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شور شرابہ شروع کر دیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ وفاقی بجٹ کا حجم 8 ہزار 487ارب روپے رکھا گیا ہے،20 ارب کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو اپریل 2021ء میں سر پلس کیا گیا۔ سبسڈی کاتخمینہ 682ارب لگایا گیا۔فی کس آمدنی میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے، کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے ماہانہ کی جا رہی ہے، وفاقی سرکاری ملازمین کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف فراہم کیا جائے گا، تمام پنشنرز کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا، اردلی الاؤنس 14 ہزار روپے سے بڑھا کر ساڑھے 17 ہزار روپے کیا جا رہا ہے۔
ملک میں ٹیکسوں کی وصولی 4 ہزار ارب کی نفسیاتی حد عبور کر چکی ہے، ٹیکس وصولیوں میں 18 فیصد بہتری آئی ہے، ٹیکس ری فنڈ کی ادائیگی میں 75 فیصد اضافہ کیا ہے، اس سال ایکسپورٹ میں شاندار نمو دیکھنے میں آئی۔ترسیلات زر میں 25 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، روپے کی قدر میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح میں 17 فیصد سے ایک فیصد تک کمی۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2018ء میں ایک بہت برا چیلنج تھا اس پر قابو پالیا گیا ہے ۔ اوورسیز پاکستانیوں نے کھاتوں میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس ہو گیا ہے۔ بیرونِ ملک سے ترسیلات میں اضافہ عمران خان کی قیادت پر اعتماد ہے۔ ٹیلی مواصلات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 17فیصد سے 16 فیصد کمی کی تجویز ہے۔ بیرونِ ملک سے ترسیلات میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے لیے 739 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، وفاقی حکومت کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے لیے 98 ارب روپے دے گی، کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے لیے سرکاری و نجی شعبے کے اشتراک سے 509 ارب روپے شامل ہوں گے۔ترقیاتی بجٹ کو 630 ارب سے بڑھا کر 900 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے، ترقیاتی بجٹ میں 40 فیصد سے زیادہ کا اضافہ کر رہے ہیں۔اگلے دو سے تین سال میں 6 سے 7 فیصد گروتھ کے اقدامات کر رہے ہیں، اگلے مالی سال کے لیے معاشی ترقی کاہدف 4 اعشاریہ 8 فیصد رکھا ہے۔