Jun 14, 2021 06:13 pm
views : 237
Location : Domestic Place
Karachi- It is demanded from the federation that all should be treated equally, CM Sindh
کراچی، وفاق نے باسٹھ ارب روپے دینے سے انکار کردیا کہا بھول جاؤ، وزیر اعلیٰ سندھ کہتے ہیں صوبوں کو کوئی کچل نہیں سکتا
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرا علیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کو منصوبے زبردستی تھوپے گئے جن کی ضرورت نہیں تھی، صوبائی حکومت کو ٹیکس جمع کرنے کے مواقع دیئے جائیں، میں جب سندھ کے مسئلے بتاتا ہوں تو چڑ کیوں لگتی ہے؟بطور وزیراعلیٰ میری ذمہ داری ہے کہ سندھ کے مسائل پر بات کروں، سندھ کی بات کرنے پر مجھ پر حملہ آور کیوں ہوجاتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ این ایف سی ہر 5 سال میں ہونا ہوتا ہے، 18 ویں ترمیم پر تنقید ہوتی ہے، این ایف سی پر تنقید ہوتی ہے، ہمیں ٹیکس جمع کرنے کے مواقع دیے جائیں، اس وقت ایف بی آر کے ٹیکسز کی گروتھ 17 فیصد ہے، 17 فیصد گروتھ تین سال کی ہے جس کے بارے میں ڈھول بجارہے ہیں، ہمیں ٹیکس میں چوریاں کم کرانی چاہئیں تاکہ صوبوں کو حصہ ملے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ شدید ناانصافی ہوئی ہے، کسی صوبے سے اختلاف نہیں، وفاق سب کو برابر دیکھے، ہم اعتراض کرتے ہیں تو ایک صاحب کہتے ہیں آپ نے کتنے موٹروے بنالیے، کراچی سے ٹھٹھہ کیرج وے ہم نے پبلک پرائیویٹ پارنٹر شپ سے بنایا، شور مچاتے ہیں ہم نے کسی صوبے میں نالے صاف نہیں کرائے، یہاں کرا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نالے نالے بول رہے ہیں، یہ نالوں میں بہہ جائیں گے، بتاؤ کہاں 90 ارب روپے دیئے، ہم لفاظی نہیں کر رہے، آپ کو فیکٹ بتارہا ہوں، جام شورو سہون روڈ پر یہ لوگ لگے ہوئے ہیں، ان سے نہیں بن رہا، کہتےہیں آپ کو پیسے نہیں دے رہے، آپ کھا جائیں گے، 70 فیصد ریونیو صوبے سے اکٹھا ہوتا ہے، کیا میں نے غلط کہا۔
انہوں نے کہا کہ مردم شماری پر میرا اعتراض تھا، آپ نے پورے سندھ کی آبادی کم گنی، پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن بلائیں اور مردم شماری پر بات کریں، ابھی تک گیارہ ماہ میں ہمیں پانچ سو اٹھانوے ارب روپے ملے ہیں، ایک صوبے سے آپ نے 544 ارب کا وعدہ کیا مگر دیا کیا؟۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاق سے مطالبہ ہے کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے، ہم نے تو کئی روڈ بنوائےہیں مگر وفاق سے کام نہیں ہوتا، کہتے ہیں سندھ سےنالوں کی صفائی نہیں ہوپاتی، بھائی آپ لوگ خود آئے تھے کہ نالے صاف کریں گے، صوبے سے پوچھو تو سہی کہ ترجیحات کیا ہیں، یہ نالوں ہی نالوں کے پروجیکٹس سندھ میں بنا رہے ہیں۔