Jun 18, 2021 01:35 pm
views : 241
Location : Domestic Place
Islamabad: Speaking English does not wash away the stains of corruption, says Hamad Azhar
اسلام آباد، انگریزی بولنے سے کرپشن کے داغ نہیں دھلتے،معیشت پر ایک نابالغ لیکچر دیا گیا، حماد اظہر کہتے ہیں جو انقلابی تبدیلی کراچی میں آئی وہ آئندہ انتخابات میں سندھ میں بھی نظر آئے گی
وفاقی وزیر حماد اظہر کی تقریر کے دوران شہباز شریف اور بلاول اٹھ کر چلے گئے۔ پی ٹی آئی رہنما نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلاول میں جرات ہے تو میری تقریر سن کر جائیں، بتانا چاہتا ہوں منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی بول کر کردار صاف نہیں ہو جاتے، اپوزیشن ڈیسک سے ہی آواز آئی اور گالی دی گئی، اپوزیشن ڈیسکوں سے ہی کہا گیا گالی دینا پنجاب کا کلچر ہے، گالی دینا پنجاب کا کلچر نہیں، ہم بھی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں، شیریں مزاری کیخلاف جو کلمات کہے گئے وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
حماد اظہر کا کہنا تھا کہ جتنا پیپلزپارٹی دور میں مہنگائی میں اضافہ ہوا اتنا آمدن میں اضافہ نہیں کیا گیا، بلاول نے کہا فاٹا اور آزاد کشمیر میں ٹیکس لگا دیا، شاید انہوں نے بجٹ نہیں پڑھا، وہ بجٹ پڑھ کر ہمیں بتائیں فاٹا اور آزاد کشمیر میں کونسا ٹیکس لگایا ہے، جنہوں نے کبھی کاروبار نہیں کیا آج وہ بتا رہے ہیں معیشت کیسے چلانی ہے۔ بلاول نے کہا کس منہ سے حلقے میں جاتے ہیں، ہمارے حلقوں میں کتے کاٹنے سے بیماری نہیں پھیلی ہوئی، ہمارے حلقوں میں ایڈز نہیں پھیلی ہوئی نہ ہی ہمارے حلقے موہنجوداڑوں کا منظر پیش نہیں کر رہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ڈی اے پی کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، بلاول کو پتا ہونا چاہیے ڈی اے پی پاکستان میں نہیں بنتی، ڈی اے پی درآمد کی جاتی ہے جس کی بین الاقوامی قیمتیں ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے ترقیاتی کاموں میں تھوڑی بہت کرپشن ہوتی ہے، ایسا ہوتا تو آج سندھ کیلیوفورنیا کا منظر پیش کر رہا ہوتا، پاکستان سٹیل اربوں کماتی تھی، یہ کروڑوں کے نقصان میں چھوڑ گئے، سٹیل مل ہم نے نہیں مسلم لیگ ن نے 2015 میں بند کی تھی۔