نیویارک، افغان مسئلے پر عمران خان کو ٹیلیفون کیوں نہ کیا؟ لنزے گراہم کی امریکی صدر پر تنقید، کہتے ہیں ہم یہ توقع کیسے کرسکتے ہیں کہ پاکستان سے بات چیت کے بغیر افغانستان سے ہماری واپسی موثر ثابت ہوگی
امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کہا ہے کہ افغانستان سے تمام افواج نکالنے اور اس حوالے سے پاکستان سے رابطہ نہ کرنےکا بائیڈن انتظامیہ کا فیصلہ بہت بڑی تباہی ہوگا یہاں تک کہ یہ عراق میں کی جانے والی غلطی سے بھی بڑی غلطی ہوگی۔
عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکی صدر نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کو ٹیلیفون کیوں نہ کیا؟ امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے جوبائیڈن کو تنقید کا نشانہ بنا دیا۔
ٹوئٹرپرپوسٹ کرتے ہوئے ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے معروف امریکی سینیٹر لنزے گراہم کا کہنا تھا کہ انہیں یہ سن کر شدید حیرت ہوئی ہےکہ صدر بائیڈن نے ابھی تک امریکا پاکستان تعلقات اور افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے رابطہ نہیں کیا ہے۔
لنزے گراہم کا کہنا تھا کہ ہم کیسے یہ توقع کر سکتے ہیں کہ پاکستان سے بات چیت کے بغیر افغانستان سے ہماری واپسی مؤثرثابت ہوگی؟ بائیڈن انتظامیہ کو واضح طور پر یہ لگتا ہےکہ افغانستان میں ہمارے مسائل حل ہوچکے ہیں۔
دوسری طرف ترجمان پینٹاگون جان کربی کا کہنا ہے کہ طالبان کی کارروائیوں اور حاصل ہونے والے فوائد کے باعث افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا عمل سست کیا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ پینٹاگون حکام نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ افغانستان میں 20 سال تک القاعدہ کے خلاف لڑنے اور حکومت کو طالبان سے لڑائی میں مدد کے بعد صدر جو بائیڈن نے فوجیوں کے انخلا کا حکم دیا ہے جو تقریباً آدھا مکمل ہو چکا ہے۔