Jun 23, 2021 03:40 pm
views : 240
Location : Domestic Place
Islamabad- Imran Khan reflects low mentality, Maryam Nawaz Sharif
اسلام آباد، کیا موٹر وے پر ریپ خاتون کے غلط کپڑے پہننے پر ہوا؟ مریم نواز کہتی ہیں عمران خان نے پست زہنیت کی عکاسی کی
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف کا وزیرِ اعظم کو کم کپڑے پہننے کی بات پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا ہے کہ عمران خان کی بات مجرمانہ سوچ کی عکاس ہے، کیا موٹر وے پر خاتون کا ریپ اس لیئے ہوا کہ انہوں نے غلط کپڑے پہنے ہوئے تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجرم کو نہیں مظلوم کو ذمے دار قرار دینے والی ایسی سوچ سے پاکستان کو آزادی چاہیئے، یہ عوام کے منتخب وزیرِ اعظم نہیں، انہیں چوری کے ذریعے مسلط کیا گیا ہے، عمران خان کا خواتین کے کپڑوں کو ریپ سے جوڑنا ان کی ذہنیت ہے، عمران خان کے بیان سے ریپسٹ کو حوصلہ ملے گا، چھوٹے بچوں کے ساتھ جو ریپ کے واقعات ہوئے کیا وہ بھی ان کے ڈریس کی وجہ سے ہوئے؟
مریم نواز نے کہا کہ کس نے اجازت دی کہ آپ پاکستان کے اثاثوں کو گروی رکھیں، آپ کا تیسرا بجٹ چوتھے وزیرِ خزانہ نے پیش کیا ہے، کنٹینر پر چڑھ کر کہتے تھے کہ سڑکیں بنانے سے ترقی نہیں ہوتی، اب ان موٹر ویز کو گروی رکھنے سے کون سی ترقی ہو گی؟ قوم کو تاریخی قرضے تلے دبا دیا ہے، رنگ روڈ پر اپنے وزراء کو نوازا ہے۔آپ راتوں رات اپنے وزراء کو باہر بھیج دیتے ہیں، مافیاز اور قاتلوں کو نوازنے کیلئے قرضے لیئے، شرم آنی چاہیئے، یہ وفات پائی ہوئی حکومت کو بچانے کیلئے پاکستان کو داؤ پر لگا سکتے ہیں، یہ لوگ پیرا شوٹ کے ذریعے لائے گئے ہیں، ان لوگوں کو پارلیمنٹ کی بات کرنے کا حق نہیں۔
نون لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ لاہور دھماکے کی مذمت کرتی ہوں، دھماکے کے شہداء کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتی ہوں، اللّٰہ تعالیٰ زخمیوں کو جلد صحت یاب کر دیں، بہت تکلیف دہ واقعہ ہے، دھماکے کا سن کر تکلیف ہوئی۔
قبل ازیں مریم نواز نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عثمان کاکڑ کی موت پر اگر سوال اٹھ گئے ہیں تو تحقیقات ہونی چاہئیں، پی ڈی ایم کے اجلاسوں میں عثمان کاکڑ سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ بہت منجھے ہوئے انسان ہیں، عثمان کاکڑ کو اگر اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ آواز دب جائے تو آواز دبے گی نہیں، ایسے اقدامات سے آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، مزید آوازیں اٹھیں گی۔