Jun 23, 2021 03:57 pm
views : 212
Location : Domestic Place
Islamabad- Geleran debate on the budget 2020-21 continues in Parliament
اس بار اپوزیشن نے بھی نہیں کہا کہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، حکومتی رکن عامر ڈوگرکا قومی اسمبلی میں اظہار خیال، لیگی رہنماء خواجہ سعد رفیق کہتے ہیں عمران خان کے خلاف اب تو بات کرنے سے بھی ڈر لگتا ہے
مالی سال دو ہزار بیس اکیس کے بجٹ پر قومی اسمبلی میں عام بحث کا سلسلہ اپنے عروج پر ہے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عامر ڈوگر کاکہنا ہے کہ ہمیشہ بجٹ پر ایک نعرہ لگتا تھا کہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے،اس بار اپوزیشن کی جانب سے بھی نہیں کہاگیا کہ یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔بڑے بڑے بجٹ دیکھے مگر ایسا عوام دوست بجٹ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔چھوٹے دکانداروں نے ، بڑے صنعتکاروں اور عام آدمی نے اس بجٹ کو قبول کیا ہے۔یہ بجٹ عمران خان اور شوکت ترین کا بجٹ ہے،ایک ایسا وقت بھی تھا کہ جب تنخواہوں کے پیسے بھی نہیں تھے۔عمران خان کی ڈھائی سال کی محنت کا نتیجہ ہے کہ معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف بات کرنے سے ڈر لگتا ہے، وہ جیل بھیج دیتے ہیں، وزیرِ اعظم نے کہا کہ اپوزیشن فوج کو اکساتی ہے، بتائیں کس نے کس افسر سے رابطہ کیا؟جوڈو کراٹے کی ماسٹر وزیر صاحبہ کہتی ہیں کہ الحمدلِلّٰہ سال کا پہلا ٹرین حادثہ ہے، ایک وزیر وہی کتابیں اپوزیشن کو مار رہے تھے جو بجٹ انہوں نے خود پیش کیا، ایک وزیر صاحب اچھے خاصے انسان تھے، وہ کبھی سائنسدان بنتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی قوم معاشی خود مختاری کے بغیر آزادی حاصل نہیں کر سکتی، معاشی عدم استحکام تب پیدا ہوتا ہے جب مقبول لیڈر کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نئے پاکستان کے نام پر بڑے بڑے دعوے کیئے گئے، گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹیاں بنانا تھا اور وزیرِ اعظم نے 2 ملازمین کے ساتھ آنا تھا، وزیرِ اعظم ہاؤس کی گاڑیاں اور بھینسیں تک بیچ دی گئیں۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ بجٹ ایلیٹ کلاس کا بجٹ نہیں غریب عوام کا بجٹ ہے۔ اپوزیشن اپنے دور کا بجٹ اٹھاکر دکھادیں جس میں غریب کیلئے کوئی اس طرح کا کام کیا گیا ہو۔