Jun 29, 2021 03:55 pm
views : 241
Location : National Assembly
Islamabad- Finance Bill 2021-22 passed in National Assembly
اسلام آباد، فنانس بل دو ہزار اکیس بائیس قومی اسمبلی نے منظور کرلیا،اپوزیشن کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی
ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ نے فنانس بل 2021-22 منظوری کیلئے ایوان میں پیش کر دیا۔جس میں وفاقی حکومت نے بجٹ منظوری سے متعلق تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے فنانس ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا تو اپوزیشن کی جانب سے بل کی شدید مخالفت کی گئی۔
وزیر خزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 74 سال میں پہلی مرتبہ اس حکومت نے غریب کے لیے روڈ میپ دیا، 40 لاکھ غریب لوگوں کو گھر ملیں گے، صحت کارڈ ملیں گے اور سہولیات ملیں گی، کور انفلیشن ابھی بھی سات فیصد ہے تاہم فوڈ انفلیشن میں اضافہ ہوا ہے جب کہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی صرف زراعت کی ترقی سے ممکن ہے۔
شوکت ترین نے کہا کہ آپ جو خسارہ چھوڑ کر گئے اس کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، اگلے چند سالوں میں نچلی سطح پر خوشحالی ہوگی، ہمارا مقصد لوگوں کو گرفتار کرنا نہیں، آپ سیاست نہ کریں میرٹ پر بات کریں اور مجھ پر میرٹ پر تنقید کریں میں ٹھیک کروں گا۔
پی پی رہنماء نوید قمر نے کہا کہ بجٹ میں سوائے ان ڈائریکٹ ٹیکسز کے کچھ نظر نہیں آتا، حکومت نے آن لائن مارکیٹ پر بھی ٹیکس لگا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا کاروباری طبقہ ایک نیب سے تنگ تھا، اب ایف بی آر کو گرفتاری کے اختیارات دیکر نیب جیسا ایک اور ادارہ لایا جا رہا ہے، آپ کے ویسٹ پر نیب بیٹھا ہے اور ایسٹ پر ایف بی آر بیٹھا ہے۔
خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اب تک 3 وزیر خزانہ تبدیل ہوئے، حکومت نے دعویٰ کیا کہ ٹیکس فری بجٹ ہوگا، حکومت نے 1200 ارب روپے کے ٹیکس لگائے، ملک میں تعلیمی اداروں کو فروغ نہیں دیا گیا، ہیلتھ کارڈ بانٹنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، ہیلتھ کارڈ بانٹنے کا بڑا اسکینڈل آئے گا۔