Jun 30, 2021 05:55 pm
views : 244
Location : National Assembly
Islamabad- PM Imran Khan invites opposition for talks on electoral reforms
اسلام آباد، وزیراعظم کی اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کی دعوت، عمران خان کہتے ہیں ہم نے معیشت بہتر کرنے کیلئے مشکل فیصلے کئے کیونکہ ملک مقروض ہو جائے تو مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں
وزیراعظم عمران خان نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ دھاندلی کے الزامات کو روکنے کیلئے ہمیں آج یہ اقدام اٹھانا ہوگا۔
وزیراعظم عمران خان کا قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ اب سیاسی جماعتیں الیکشن لڑیں تو کسی کو فکر نہ ہو کہ ہمیں دھاندلی سے ہرا دیا جائے گا۔ اگر اب الیکشن ریفارمز نہیں کرینگے تو یہ سلسلہ مستقبل میں بھی چلتا رہے گا۔میں اپوزیشن سے درخواست کرتا ہوں کہ الیکشن پاکستان کا مسئلہ ہے، انتخابی اصلاحات جمہوری نظام کے مستقبل کیساتھ جڑی ہیں، اپوزیشن کے پاس انتخابی اصلاحات ہیں تو ہم سننے کیلئے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی کے اندر کرکٹ میں بھی کوئی ہارتا تھا تو اپنی شکست تسلیم نہیں کرتا تھا، کرکٹ میں نیوٹرل ایمپائر لانے پر مجھے فخر ہے۔
ملک کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اقتدار سنبھالا تو ملک کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ تھا، ہمارے سامنے سب سے بڑا مسئلہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا جبکہ قرضوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا تھا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ دوست ممالک نے مشکلات میں ہمارا بھرپور ساتھ دیا اور ہمیں ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا۔ چین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے ہماری مدد کی۔
وزیراعظم نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نے پاکستان کو کورونا سے بچا لیا۔ بھارت، ایران، افغانستان، انڈونیشیا اور بنگلا دیش کے مقابلے میں ہمارے حالات بہتر ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ مکمل لاک ڈاؤن نہیں کرنا کیونکہ ایسا کرنے سے غریب طبقے نے پس جانا تھا، امریکا جیسے ملکوں میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے غربت بڑھی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران ٹڈی دل کا حملہ بھی ہو گیا لیکن اللہ نے ہمیں اس کے حملوں سے بھی بچایا۔
کورونا کے دوران اٹھائے گئے حکومتی اقدامات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کنسٹریکشن اور ایگری کلچر سیکٹر کو پہلے کھولا، سٹیٹ بینک نے انڈسٹری کی پوری مدد کی، ہم نے احساس کیش پروگرام میں ڈیڑھ کروڑ خاندانوں کو امداد دی، ورلڈ بینک نے بھی احساس پروگرام کو سراہا۔