Jul 09, 2021 01:15 pm
views : 256
Location : Domestic Place
Islamabad- India wants instability in Pakistan and Afghanistan, FM
اسلام آباد، بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں عدم استحکام رہے، وزیر خارجہ کہتے ہیں امریکا نے سابقہ حلیفوں کو تحفظ کی یقین دہانی کرادی
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امریکا کے ترجمان کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ہمارا تعمیری شراکت دار ہے، ان کے مطابق افغانستان میں ان کی اور پاکستان کی منزل ایک ہے، تیسری بات وہ پاکستان کو محض افغانستان کے نقطہ نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہتے، وہ چاہتے ہیں کہ 31 اگست تک افغانستان سے انخلاء مکمل ہو جائے گا لیکن پاکستان اور خطے کے ساتھ امن کیلئے ایک رشتہ استوار رہے، جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔
شاہ محمود کا کہنا تھا کہ ان کا نکتہ نظر یہ ہے کہ انخلاء کے بعد بھی وہ انسانی بنیادوں پر معاونت جاری رکھیں گے، وہ ڈپلومیٹک موجودگی رکھنا چاہتے ہیں، وہ کابل ایرپورٹ کی سیکورٹی کیلئے معاونت فراہم کرنے کا عندیہ بھی دے رہے ہیں، انہوں نے زلمے خلیل زاد کو ہدایت کی ہے کہ وہ جامع مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلے کے سیاسی حل کیلئے روابط جاری رکھیں گے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ میری آج سیکرٹری خارجہ بلنکن سے بات متوقع ہے، میں ان کے سامنے پاکستان کا نکتہ نظر رکھوں گا، امریکا نے اپنے سابقہ حلیفوں کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے، آج دوحہ معاہدے اور بین الافغان مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال سنگین ہورہی ہے اور اس کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا جائز نہیں، اشرف غنی طالبان کے ساتھ بیٹھے کو تیار ہیں لیکن طالبان کو اشرف غنی پر اعتراضات ہیں، طالبان کا لباس سادہ لیکن وہ انتہائی ذہین اور قابل لوگ ہیں طالبان اب بہت سمجھدار ہوگئے ہیں انہیں ہر چیز کا ادراک ہے، طالبان دوحہ مذاکرات کے بعد اب بدل چکے ہیں پاکستان کو نئی بدلتی صورتحال کے لئے تیار ہونا پڑے گا۔