کراچی،اونٹوں پر بنے دیدہ زیب نقش نگاری گاہکوں کا دل لبھانے لگے، کاریگر کہتے ہیں انسان کبھی کسی کام کو مکمل طور پر نہیں سیکھ سکتا، یہ عمل تو قبر کی آغوش میں جانے تک جاری رہتا ہے
اونٹوں پر بنے دیدہ زیب نقش و نگار نہ صرف بچوں کو متوجہ کرتے ہیں بلکہ بیوپاریوں کا منافع بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان نقش و نگار کو تخلیق کرنے والے فن کار نہ کسی آرٹ اسکول کے تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ کاغذ پر بنے کسی ڈیزائن کو دیکھ کر کاپی کرتے ہیں۔ ہر فن کا ر کو درجنوں ڈیزائن ذہن نشین ہوتے ہیں، اونٹ کے دونوں طرف ایک جیسے نقش و نگار بنانا اُن کے کام کی انفرادیت ہے۔
اونٹوں کی منڈی میں ایک اونٹ کے جسم پر خوب صورت نقش اجاگر کرنے والے فن کار سید علی حسین کا کہنا ہے کہ یہ ہمارا خاندانی کام ہے۔ بچپن سے آج تک اس کام کو سیکھنے کے مرحلے سے گزر رہے ہیں کیوں کہ انسان کبھی کسی کام کو مکمل نہیں سیکھ سکتا۔ یہ عمل تو ماں کی گود سے قبر کی آغوش میں جانے تک جاری رہتا ہے۔
اس کام کے لیے یہ فن کار کسی رنگ یا کینوس کے محتاج نہیں ہوتے۔ بس مالک سے کام کا معاوضہ طے ہونے کے وہ اپنی قینچی سے اونٹ کے جسم پر اس طرح نقش بنا دیتا ہے، جس طرح کوئی مصور اپنے برش سے کینوس پر نئی زندگی اُجاگر کرتا ہے۔ ان فن کاروں کیلئے قینچی برش اور اونٹ کے جسم پر موجود بال کینوس کا کام کرتے ہیں۔
اونٹ کی خریداری کیلئے آئے ایک شہری کا کہنا تھا کہ اونٹ پر کاریگر نے محنت کی ہے ظاہر سی بات ہے اگر ہمارا سودا بن جاتا ہے تو ہم پانچ ہزار روپے نقش نگاری کے دینے کیلئے تیار ہیں لیکن ویسے اس کی قیمت زیادہ ہے۔