کراچی میں سپلائی جہاز کو ساحل پر پھنسے پچاس گھنٹوں سے زائد ہو گئے
کراچی پورٹ ٹرسٹ (کےپی ٹی) کے ذرائع کے مطابق کراچی کے ساحل پر پھنسنے والا جہاز 10 سال پرانا ہے اوراسے نقصان نہیں ہوا ہے۔
حکام
نے بتایا کہ جہاز سنگاپور سے 18 جولائی کو کریو کی تبدیلی کے لئے آیا تھا،
خراب موسم کی وجہ سے جہاز کا اینکر الگ ہوکر گم ہوگیا تھا، انجن کمزورہونے
کی وجہ سے جہاز لہروں کا زورنہیں سہہ سکا تھا اور دھکے کھاتا ہوا ساحل پر
پہنچا اور ریت میں پھنس گیا۔
کے پی ٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کم گہرے
پانی کے ٹگ جہاز کو نکال سکتے ہیں، تاہم پاکستان کے پاس کم گہرے پانی کے
ٹگ پشرر نہیں ہیں۔
کے پی ٹی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کو نکالنے کے لیے
طاقتور سالویج ٹگ استعمال کرنا ہوں گے، تاہم جہاز کی مالک کمپنی نے ریسکیو
کرنے کی ابھی تک باضابطہ درخواست نہیں کی، اور جہاز کی آمد کی اطلاع بھی کے
پی ٹی کو نہیں دی گئی تھی، اس لئے کے پی ٹی کے ٹگ پورٹ آپریشن چھوڑ کر
پھنسے ہوئے جہاز کو ریسکیو نہیں کرسکتے۔
کے پی ٹی ذرائع کا یہ بھی کہنا
ہے کہ جہاز کے مالک کو ٹگ پشرر کا انتظام کرنا ہو گا، عالمی قوانین کے تحت
یہ جہاز کے مالک کی ذمے داری ہے۔
دوسری جانب کراچی کے تفریحی مقام سی
ویو پر پھنسا بحری جہاز شہریوں کی تفریح کا ذریعہ بن گیا ہے، گزشتہ روز
کنٹینرز سے لدا بحری جہاز ساحل کی ریت میں پھنس گیا تھا جسے دیکھنے کے لئے
ساحل پر تفریح کے لیے آنے والوں کا رش بڑھتا جارہا ہے۔
نوجوان علی کا کہنا تھا کہ ہم لوگ اس جہاز کا دیکھنے آئے تھے تاہم پولیس والے اس کے پاس جانے سے روک رہے ہیں۔
عمیر کا کہنا تھا کہ سامنے جہاز کھڑا ہے لیکن ہم آگے جا نہیں سکتے،پولیس والے اجازت نہیں دے رہے۔