ہمارے ریلیف سے IMF کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے،وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا پیٹرول سبسڈی پر آئی ایم ایف کو تحفظات نہیں ہونے چاہئیں، آئی ایم ایف کو کہا ہے ہاتھ ہولا رکھیں عوام پہلے سے ہی سڑکوں پر ہیں-
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ جب تک صنعت ترقی نہیں کرے گی ملک ترقی نہیں کرسکتا، ہماری حکومت کی جانب سے صنعتوں کی بحالی کے لیے پیکج دیا گیا، پیکج کا مقصد بیمار صنعتوں کی بحالی اور مضبوطی ہے، حکومت نے پیٹرول کی قیمت کو کم کیا اور سیل ٹیکس کو صفر کیا، بجلی کی مد میں آئندہ 4 ماہ کے دوران 136 ارب روپے کی سبسڈی دینے پڑے گی۔
مہنگائی سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ جنوری کے دوران مہنگائی کی شرح 13 فیصد کے قریب رہی جو اس مہینے کم ہو کر 12.2 فیصد ہوگئی-
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مقامی سطح پر قیمتوں پر قابو پایا ہوا ہے جبکہ عالمی سطح پر ہونے والی مہنگائی کے باعث دنیا بھر میں اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے،