دہشت نہیں پھیلانا چاہتا لیکن ہمارے پاس اطلاعات اچھی نہیں، وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا سب سے زیادہ خطرہ مجھے اور مولانا فضل الرحمان کو ہے۔
قانون ہاتھ میں لیا گیا تو اگلی بار دہشتگردی کا پرچہ کاٹیں گے-
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز جو واقعہ ہوا اس کی مذمت کرتے ہیں، اکتوبر 2019 میں انصارالاسلام پرپابندی لگائی گئی، ہمارے پاس اطلاعات اچھی نہیں ہیں، سب سےزیادہ خطرہ مولانافضل الرحمان اور شیخ رشید کوہے،جےیوآئی کےایم این ایزاپنی مرضی سے ساتھ گئے، ہم نےایف آئی آرمیں کوئی جھوٹی دفعہ نہیں لگائی،لاجز میں 362 اراکین کی فیملیز رہتی ہیں، 50افراد کو لاجز میں داخل کیا گیا ،5گھنٹے ہم نے مذاکرات کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نجی ملیشا نے پولیس پر تشدد کیا ،5افراد زخمی ہوئے ، ہم نے کسی کے خلا ف دہشت گردی کا مقدمہ نہیں بنایا۔ کامران مرتضیٰ نے پولیس سے متعلق انتہائی غلیظ زبان استعمال کی اور بہارہ کہو میں دہشت گرد گروپ گرفتا ر کیا گیا۔
شیخ رشید نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس 172 لوگ نہیں ہیں اس لیےایسے ہتھکنڈے اپنا رہے ہیں، فضل الرحمان کو پہلے بھی استعمال کیا گیا اور اب بھی وہ استعمال ہورہے ہیں۔
جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ رہائی نہ ملنے کی صورت میں ہم نے دوبارہ سڑکوں پر آنے کے لیے فیصلہ کیا تھا لیکن اب اسکی ضرورت باقی نہیں رہی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ واقعے کی غلط تصویر اور جھوٹ پر مبنی بیانیہ قوم کے سامنے رکھ کر تاریخ کے صفحات پر اپنے سیاہ کردار کی پردہ پوشی کی بھونڈی کوشش کی۔