وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا
تھا کہ 72 گھنٹوں کا ٹائم دیتا ہوں
دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ 72 گھنٹوں کا ٹائم دیتا ہوں کہ اہم ہیں، اس دوران جہاں فیصلے ہونے ہیں ہو جائیں گے، سیاسی تجزیہ ہے ایک گھنٹہ پہلے بھی صورتحال بدل سکتی ہے، ابھی جلسہ جلسہ ہے کھیل کل سے شروع ہوگا، میں نے کسی حکومت کو وقت پورا کرتے نہیں دیکھا، واضح کردوں کہ عمران خان آخری بال تک کھیلیں گے۔
شیخ رشید نے کہا کہ گزشتہ روز تحریک انصاف کا بہترین جلسہ ہوا، بلاول کی ریلی سے زیادہ ہماری سیکیورٹی تھی، گزشتہ روز کے جلسے کے بعد لوگوں کی آنکھیں کھلنی چاہیے، 1977 کے بعد پہلی دفعہ میں جلوس کے ساتھ تھا، گزشتہ روز انتظامیہ نے اچھا کام کیا، وزیراعظم عمران خان کی خواہش تھی میں لمبی تقریرکروں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں بھٹو خاندان کی سیاست نہیں ہے، اب زرداری کی سیاست چل رہی ہے، آصف زرداری شاطر اور پلانر سیاستدان ہیں، خرید و فروخت میں لگے ہیں، سیاست میں ہارس ٹریڈنگ کاسلسلہ جاری ہے، یہ گینگ آف تھری ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ نہیں تھے، آصف زرداری نوابشاہ میں کونسلر نہیں بن سکے، جو خرید و فروخت کرتے ہیں علاقے کے لوگوں کو ان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے، گورنر راج کی تجویز دی آج بھی کہہ رہا ہوں گورنر راج لگادو۔
وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ہمیں نہیں پتہ (ن) لیگ نے کدھر سے آنا ہے انہوں نے ابھی تک ہمیں کچھ نہیں بتایا، ن لیگ کے جلسے میری توقع سے زیادہ کمزور ہیں، ان کے پاس اپنے لوگ نہیں، یہ لوگ مولویوں سے خطاب کرنے آرہے ہیں، مولانا فضل الرحمان کے مدرسوں میں چھٹیاں ہیں، آج ن لیگ کوجلسہ کرنے کی اجازت ہے دھرنے کی نہیں، میں تصادم نہیں چاہتا جے یو آئی کا جلسہ ختم ہوگیا ہے، وہ آج بغیر اجازت بیٹھی ہے، آج کا دن ہے وہ گزر جائے باقی اسمبلی کے باہر صورتحال ہم ذمہ دار ہیں۔