قومی
خزانہ جس حالت میں ملا وہ میری خواہش پورا کرنے کے قابل نہیں، وزیراعظم
شہبازشریف نے کہا مسائل کے حل کے لیے کوئی جادو کی چھڑی کام نہیں آئے
گی-پنجاب میں 10 کلوآٹا 400 اور چینی 70 روپے فی کلو کرنے کی ہدایت
میڈیا
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کی زیرِصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس
ہوا، جس میں کابینہ کو ملک کی معاشی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور
بتایا گیا کہ اپریل اور مئی میں ڈیزل، پٹرول پر سبسڈی سے خزانے کو 67 ارب
نقصان ہوگا، 18-2017 میں جی ڈی پی گروتھ ریٹ 6.1 فیصد تھا، اور 22-2021
میں یہ شرح صرف 4 فیصد ہے۔۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ حکومت پر نکتہ
چینی کی جارہی ہے، کابینہ میں بہت اہل اور تجربہ کار افراد شامل ہیں جنہوں
نے قربانیاں دیں، مشکلات ضرور آئیں گی مگر دیکھنا ہوگا مسائل کیسے حل کرنے
ہیں، خلوص اور عزم کے ساتھ کام کیا جائے تو کوئی بھی چیلنج پر قابو پایا
جاسکتا ہے، توقع ہے باہمی مشاورت سے تمام چیلنجز پر قابو پا لیں گے۔
وزیراعظم
نے کہا کہ ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے، بجلی اور ایندھن نہ ہونے کے باعث
سیکڑوں کارخانے بند پڑے ہیں، ساڑھے 3 سال میں جو کرپشن عروج پرتھی اسے ختم
کرنا ہے، آپ کے سامنے مہنگائی، لوڈشیڈنگ سمیت کئی چیلنجز ہیں، کابینہ
اراکین نے مجھے گائیڈ کرنا ہے، مشورے اچھے اور تلخ بھی ہوں گے، ہم اتحاد سے
چلیں گے تو ہم بڑی سے بڑی مشکل کا مقابلہ کر لیں گے۔
شہبازشریف کا کہنا
تھا کہ مسائل کے حل کے لیے کوئی جادو کی چھڑی کام نہیں آئے گی، مشکلات کو
کچھ کم کرنے کے لیے پنجاب میں 10 کلو آٹے کی قیمت کم کردی ہے، ہمیں قوم کے
بہترین مفاد میں فیصلے کرنے ہیں،
وزیراعظم نے کہا کہ انتخابات میں اپنے
اپنے منشور کے مطابق عوام سے بات کریں گے، زہریلے پروپیگنڈے کا حقائق کی
بنیاد پر جواب دینا ہوگا، چار سال اپوزیشن کو بدترین انتقام کا نشانہ بنایا
گیا۔