تصادم نہیں چاہتا مگر امپورٹڈ حکومت کو کسی صورت تسلیم نہیں کروں گا، عمران خان نے کہا خزانہ لوٹنے والے ڈاکوؤں کو قوم پر مسلط کیا گیا،ضمانت پر رہا شخص وزیراعظم بن گیا
لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ جس سے بھی غلطی ہوئی اب مسئلے کا ایک ہی حل جلد از جلد الیکشن ہیں، ہم تصادم نہیں چاہتے مگر نئے انتخابات تک اپنی پُرامن جدوجہد جاری رکھیں گے اور امپورٹڈ حکومت کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔
لاہور کے مینار پاکستان میں پی ٹی آئی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جب ہم آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے ہی والے تھے کہ انہوں نے سازش کردی۔ عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ کے حوالے سے مجھ سے منسوب کر کے باتیں کی جارہی ہیں،
انہوں نے کہا کہ میں نے قانون کے مطابق پچاس فیصد رقم ادا کر کے تحائف خریدے اور توشہ خانے سے حاصل ہونے والی رقم سے اپنی رہائش گاہ کے اطراف کی سڑکیں بنوائیں جس سے عوام کو بھی فائدہ ہوا، عمران خان کا کہنا تھا کہ خزانہ لوٹنے والے ڈاکوؤں کو قوم پر مسلط کیا گیا، ضمانت پر رہا شخص وزیراعظم بن گیا جبکہ اُس کے بیٹے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا، انہوں نے کہا کہ ’زرداری پر اربوں روپے کرپشن کے کیسز ہیں، وزیراعلیٰ پر بھی کیسز ہیں، میں نے وزارتِ عظمیٰ میں ان کیسز کو آگے بڑھانے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا، جن لوگوں کو جیل میں ہونا تھا وہ وزیراعظم بن گئے یا وزیراعلیٰ بننے کی کوشش کررہا ہے، یہ بڑے بڑے ڈاکو ہر سال 15 ارب روپے باہر بھیجتے ہیں‘۔
’میں کسی سے کوئی تصادم نہیں چاہتا اور نہ ہی ملک سے باہر جاؤں گا البتہ امپورٹڈ حکومت کو کسی صورت تسلیم نہیں کروں گا اور نئے انتخابات تک جدوجہد جاری رکھوں گا‘۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کارکنان کو تیار رہنے کی ’پی ٹی آئی کارکنان سمیت تمام پاکستانیوں بشمول پی پی پی اور ن لیگ کے کارکنان گلی گلی، محلے محلے تیاریاں شروع کریں، جب میں اسلام آباد کی کال دوں تو آپ کو بھرپور تیاری کے ساتھ پہنچنا ہے‘۔