پنجاب میں انتظامی معاملات چلانے کیلیے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے نگراں کابینہ تشکیل دینے پر غور شروع کردیا ہے۔
پنجاب
میں نئے وزیراعلیٰ کے تاحال حلف نہ اٹھائے جانے کے باعث صوبے میں انتظامی
معاملات مفلوج ہورہے ہیں جس سے نمٹنے کیلیے نگراں وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے
نگراں کابینہ کی تشکیل پر غور شروع کر دیا ہے اور اس حوالے سے انہوں نے
اپنے قریبی ساتھیوں اور قانونی ماہرین سے مشاورت شروع کردی ہے۔
وزیراعلیٰ
ہاؤس میں اجلاس ہوا ہے جس میں سابق وزیر قانون راجا بشارت، سبطین خان،
میاں محمود الرشید سمیت دیگر وزرا نے شرکت کی ہے جس میں طے پایا گیا ہے کہ
جب تک پنجاب میں حکومت سازی کا آئینی بحران حل نہیں ہوجاتا اس وقت تک صوبے
کے انتظامی امور چلانے کیلیے نگراں کابینہ تشکیل دی جائے۔
ذمے دار ذرائع
کا کہنا ہے کہ یہ نگراں کابینہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بنائی
جارہی ہے جس کا مقصد روزمرہ کے امور دیکھنا ہوگا اور نگراں کابینہ 6 سے 8
اراکین پر مشتمل ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ نگراں وزیراعلیٰ عثمان
بزدار جنہوں نے یکم اپریل کو عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا انہوں نے گزشتہ روز
چیف سیکریٹری سمیت دیگر اعلیٰ افسران کو طلب کرکے ان سے صوبے میں امن
وامان سمیت دیگر امور پر بریفنگ لی ہے۔