Jun 04, 2022 01:10 pm
views : 354
Location : Domestic Place
Money laundering case: FIA seeks court's nod to arrest PM, CM Punjab
اسلام آباد، ایف آئی اے نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی گرفتاری مانگ لی، شہباز شریف اور حمزہ شہباز عدالت میں پیش ہوئے، اسپیشل پراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے ضمنی چالان جمع کرادیا
وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف شوگر ملز کے ذریعے 25 ارب کی منی لانڈرنگ کیس کی سماعت اسپیشل سینٹرل کورٹ لاہور میں ہوئی، جہاں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب عدالت میں پیش ہو گئے۔
شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز کے ذاتی اکاؤنٹس میں کوئی رقم نہیں آئی۔ ایف آئی اے نے ڈیڑھ برس تحقیقات کیں، مگر کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ حمزہ شہباز پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں کیونکہ تمام ٹرانزیکشنز قانونی اور لین دین کاروباری ہے۔
وکیل امجد پرویز نے کہا کہ منی لانڈرنگ کا مقدمہ گزشتہ دور حکومت میں بدنیتی پر بنایا گیا ہے۔ دونوں باپ بیٹا جب جیل میں تھے اور انہیں شامل تفتیش بھی کیا گیا۔ اس سب کے باوجود دونوں کو گرفتار کرنے کے بجائے ایف آئی اے مہینوں خاموش رہا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر عطا تارڑ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کیا کہتا ہے کہ ان کو ملزمان کی گرفتاری درکار ہے، جس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ابھی ملزمان کا مزید کردار ثابت ہونا ہے۔ اس لیے ملزمان کی گرفتاری درکار ہے۔ فاروق باجوہ نے مزید کہا کہ سی ایف او عثمان سمیت دو ملزمان شامل تفتیش نہیں ہوئے۔
بعد ازاں عدالت سے اجازت لینے کے بعد شہباز شریف اور حمزہ شہباز عدالت سے روانہ ہوگئے۔