Jun 23, 2022 04:35 pm
views : 506
Location : National Assembly Sectriate
Islamabad- National Assembly Secretariat issued a gazetted notification of the NAB Amendment Act
اسلام آباد، نیب ترمیمی بل، ایکٹ دوہزار بائیس کی شکل اختیار کرگیا، وفاقی صوبائی کابینہ، کونسلز، اسٹیٹ بینک کے فیصلے اور ٹیکس معاملات نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہوگئے،نیب قانون میں محض گمان پر ملزم کو سزا کی شق چودہ ختم کردی گئی
نیب ترمیمی بل ایکٹ 2022ء کے مطابق چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ پر ڈپٹی چیئرمین قائم مقام سربراہ ہوں گے، ڈپٹی چیئرمین کی عدم موجودگی میں ادارے کے کسی سینئر افسر کو قائم مقام چیئرمین کا چارج ملے گا، ڈپٹی چیئرمین نیب کا تقرر صدر کے بجائے اب وفاقی حکومت کرے گی۔
نیب ترمیمی ایکٹ کے مطابق نئے چیئرمین نیب کی تقرری کے لیے مشاورت کا عمل 2 ماہ پہلے شروع کیا جائے گا اور 45 روز میں مکمل ہوجائے گا، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق رائے نہ ہونے پر تقرر کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائےگا، پارلیمانی کمیٹی چیئرمین نیب کا نام 30 روز میں فائنل کرے گی، چیئرمین نیب کی 3 سالہ مدت کے بعد اسی شخص کو دوبارہ چیئرمین نیب نہیں لگایا جائے گا۔
ایکٹ کے مطابق احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی 3 سال کے لیے ہوگی، مقدمات کے فیصلے ایک سال کے اندر کیے جائیں گے، احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کے لیے متعلق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری ہوگی، گرفتاری سے قبل نیب شواہد کی دستیابی یقینی بنائے گا، جھوٹا ریفرنس دائر کرنے پر 5 سال تک قید کی سزا ہوگی۔
واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نیب ترمیمی بل پر دستخط سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا یہ بل لوٹ مار کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے، میرا ضمیر اجازت نہیں دیتا کہ اس بل پر دستخط کروں، جانتا ہوں کہ دستخط نہ کرنے کے باوجود یہ بل ایکٹ کی شکل اختیار کرلے گا۔