May 12, 2023 10:00 pm
views : 439
Location : Islamabad High Court
Islamabad - Imran Khan granted interim bail for two weeks in Al-Qadir Trust case
عمران خان کی القادر ٹرسٹ
کیس میں دو ہفتوں کیلئے عبوری ضمانت منظور ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا
ہے کہ ، آئندہ سماعت پر ہم دلائل سن کر ضمانت منظور یا خارج کرنے کا فیصلہ
کرینگے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کو عمران خان کی گرفتاری سے روک دیا
اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں دو ہفتوں کیلئے عبوری ضمانت منظور کرلی۔
میاں
گل حسن اورنگزیب کی سربراہی میں جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل ڈویژن بنچ
نے القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ عمران خان
ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت شروع ہوئی تو
کمرۂ عدالت میں عمران خان کے حق میں نعرے لگائے گئے، نعرے لگانے پر ججز نے
اظہارِ برہمی کیا اور عدالت سے اٹھ کر چلے گئے، اس موقع پر میاں گل حسن
اورنگزیب نے کہا کہ اس طرح نہیں چلے گا، یہ کوئی طریقہ نہیں، مکمل خاموشی
ہونی چاہیے۔
جس کے بعد عدالت کی جانب سے کیس کی سماعت میں جمعے کی نماز کا وقفہ کر دیا گیا۔
عدالت
میں نماز جمعہ کے وقفے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز کیا گیا تو خواجہ
حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری اور
حفاظتی ضمانت کی درخواست ہے، ہم نے ایک اور درخواست میں انکوائری رپورٹ کی
کاپی مانگی ہوئی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ نیب کو انکوائری رپورٹ کی کاپی فراہم
کرنے کا حکم دیا جائے، نیب کی انکوائری رپورٹ کا اخبار سے پتہ چلا۔
اسلام
آباد ہائی کورٹ میں کیس کی وقفے کے بعد سماعت سے قبل ایڈووکیٹ جنرل اسلام
آباد جہانگیر جدون اور پی ٹی آئی کے وکیل سیف الرحمٰن کے درمیان تلخ
کلامی ہوئی۔
عمران خان کمرۂ عدالت میں کھڑے ہوگئے اور کہا کہ تمام لوگ پُرامن رہیں اور عدالت کے احترام کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔
عمران
خان نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون سے معافی مانگ لی، عمران
خان کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل سیف الرحمٰن نے بھی جہانگیر جدون سے
معافی مانگ لی۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے سماعت سے قبل
گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر اپنی لیگل ٹیم سے رابطہ کیا،عمران خان نے وکیل
حامد خان سے رابطہ کر کے کہا ہے کہ پنجاب پولیس مجھے گرفتار کرنے کیلئے
باہر کھڑی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ میں آپ کو تمام صورتحال سے آگاہ کر
رہا ہوں، مجھے دوبارہ گرفتار کیا گیا تو وہی ردعمل آئے گا ، میں نہیں
چاہتا کہ دوبارہ ایسی صورتحال پیدا ہو، آپ صورتحال کے حوالےسے تیاری کریں۔
چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے ان کے وکلاء نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کے علاوہ 4 دیگر درخواستیں بھی دائر کیں۔
درخواست
میں استدعا کی گئی عمران خان کے خلاف جتنے مقدمات درج ہو چکے ان کی
تفصیلات فراہم کی جائے اور ان تمام مقدمات کو یکجا کر دیا جائے۔
القادر ٹرسٹ سے متعلق کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر کی گئی، درخواست میں چیئرمین نیب کو فریق بنایا گیا ہے۔
دوسری
جانب قومی احتساب بیور (نیب) نے آج ہی عدالت میں درخواست ضمانت کی مخالفت
کا فیصلہ کر لیا، ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نیب سردار مظفر چیف جسٹس کی عدالت
میں موجود ہیں۔