کراچی، میئر کراچی وسیم اختر کی رہائی کا حکم جاری، ضمانت کے عوض 5 پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے دہشت گردوں کی سہولت کاری اور ان کے
علاج معالجے سے متعلق مقدمے میں کاغذات ضمانت منظور کئے جانے کے بعد مئیر
کراچی وسیم اختر کی رہائی کا حکم نامہ جاری کردیا ہے۔
کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دہشت گردوں کی سہولت کاری سے
متعلق مقدمے میں کاغذات ضمانت منظورکرلئے ہیں جس کے بعد عدالت نے ان کی
رہائی کا حکم جاری کردیا ہے۔ وسیم اختر کو چند گھنٹوں بعد جیل سے رہا
کردیاگیا۔
اس موقع پر وسیم اختر کی اہلیہ نے عدالتی فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو
کرتے ہوئے ڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرہ کا کہنا تھا کہ شہر کو وسیم اختر کی
ضرورت ہے، ان کی واپسی سے معاملات میں بہتری آئیگی، ہم مل کر شہر کی
روشنیاں لوٹائیں گے، وسیم اختر رہائی کے بعد ریلی کی صورت میں مزار قائد
جائیں گے، پھر ان کا پی آئی بی میں بھرپور استقبال کیا جائے گا۔
اس موقع پر ایم کیو ایم کے رہنماء خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ سابق
گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور سابق صدر پرویز مشرف سمیت سب کیلئے ان کی
جماعت کے دورازے کھلے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مئیر کراچی کی رہائی پر ایم کیو ایم کی طرف سے پورے کراچی
کو مبارک باد دیتا ہوں، وسیم اختر ایم کیو ایم پاکستان کے مئیر ہیں وہ باہر
آکر دل جوئی سے کام کریں گے اور عوام کو فرق واضح نظرآئے گا، جو ہمارا کام
نہیں وہ بھی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اختیارات کے بغیر کچرے کے سمندر میں اترنے کو تیار ہیں تاہم اگر اختیارات نہ ملے تو احتجاج کریں گے۔
خواجہ اظہار نے کہا کہ سندھ حکومت میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تاہم
صرف ایک ہی شرط پر حکومت میں شامل ہوسکتے ہیں اگر سندھ کی وزارت اعلیٰ مل
جائے جبکہ سابق گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد اور سابق صدر پرویز مشرف سمیت
سب کیلئے پارٹی کے دروازے کھلے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کی قیادت کی تبدیلی کی افواہیں پھیل رہی ہیں تاہم
اگر قیادت تبدیل ہوئی تو اندر سے ہی اس جگہ کو پر کیا جائے گا۔