کراچی ، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا میں پہلی پاکستانی بکتربند تیار
ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (ایچ آئی ٹی ) نے کراچی میں منعقدہ بین الاقوامی
دفاعی نمائش و سیمینار 2016 کے موقعے پر اپنی نئی اور پاکستان کی پہلی
مقامی بکتر بند گاڑی (اے پی سی) پیش کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔
کراچی کے ایکسپو سینٹر میں ہونے والی یہ نمائش 22 سے 25 نومبر تک جاری رہے
گی جس میں شرکت کے لیے 43 ممالک سے 90 وفود پاکستان پہنچ چکے ہیں جب کہ
آئیڈیاز 2016 میں 261 غیر ملکی اور 157 مقامی دفاعی کمپنیوں کے اسٹالز
موجود ہوں گے۔
اگرچہ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نے اپنی نئی اور مکمل پاکستانی بکتر بند گاڑی
کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں لیکن دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ
ہی پاکستان میں دفاعی پیداوار کے حوالے سے خودکفالت اور خودمختاری کا ایک
نیا دور شروع ہوگا کیونکہ ایچ آئی ٹی کو بھاری دفاعی ساز و سامان بنانے میں
مہارت حاصل ہے جس میں ٹینک، توپیں اور بکتر بند گاڑیاں خاص طور پر قابلِ
ذکر ہیں۔
بکتر بند گاڑیوں کے ذیل میں ایچ آئی ٹی کو ایم فیملی کی اے پی سیز پر کام
کا طویل تجربہ ہے۔ طلحہٰ، سعد، حمزہ اور سکب اے پی سیز اسی تجربے اور مہارت
کا منہ بولتا ثبوت ہیں جنہیں عالمی معاہدوں کے تحت پاکستان میں تیار کیا
جارہا ہے۔ خیال رہے کہ ایچ آئی ٹی کی مذکورہ نئی اے پی سی میں یہی تجربہ
اور مہارت استعمال کیے جائیں گے۔
آئی ایچ ایس جینز نے جون 2016 میں ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ پاکستان میں
دفاعی پیداواری فنڈ کا نمایاں حصہ ایک نئی مقامی بکتر بند گاڑی کی تیاری کے
منصوبے پر صرف کیا جائے گا جس کی ممکنہ لاگت 1.1 ارب ڈالر ہوسکتی ہے۔ یعنی
یہ پاک فوج میں دفاعی خودمختاری کے اہم منصوبوں میں سے ایک ہے۔