Nov 23, 2016 08:10 pm
views : 915
Location : Sindh Secretariat
Karachi- PPP leader Moula Bux Chandio Press Conference
کراچی ، مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو کاپر یس کانفرنس سے خطاب
مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے صوبائی
مشیروں اور معاونین خصوصی کی نامزدگی کوخلاف قانون قرار دیئے جانے کے فیصلے
پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت میں صرف مرتضیٰ وہاب کی نامزدگی کو
چیلنج کیا گیا تھا ، لیکن فیصلہ پوری حکومت کے خلاف دیا گیا۔ سرتاج عزیز
مشیر ہو سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟
کراچی میں واقع سندھ سیکریٹریٹ میں سینیٹر سعید غنی کے ہمراہ پریس کانفرنس
کرتے ہوئے مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیونے کہا کہ آئین وزیر اعلیٰ کو
مشیراور معاون خصوصی رکھنے کا اختیار دیتا ہے لیکن سندھ ہائی کورٹ نے قانون
سے بالا فیصلہ دیا ہے جو زیادتی ہے۔
وفاق اور باقی صوبوں میں بھی مشیر اور معاونین خصوصی تعینات ہیں،مگر ساری
سختیاں سندھ کے لوگوں کے لیے ہیں۔ کیا آئین کا اطلاق صرف سندھ پر ہوتا ہے؟
اس موقع پر سینیٹر سعید غنی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کو ہی نہیں بلکہ
باقی اداروں کو بھی اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے، قانون کے تحت وزیر
اعلیٰ 5 مشیر رکھ سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کے فیصلوں میں
امتیازی سلوک نظر نہیں آنا چاہئے، پیپلز پارٹی کی بنیادیں ہلانے میں کب کس
نے کتنا کردار ادا کیا ہم سب جانتے ہیں۔