Nov 28, 2016 08:52 pm
views : 901
Location : Different Areas
Karachi- Ameer JI Azad Kashmir Abdul Rasheed Turabi Media Talk
کراچی ، سیاسی جماعتوں کے قومی قائدین آزادکشمیر کا دورہ کریں،امیر جے آئی
آزاد کمشیر میں جماعت اسلامی کے امیر عبدالرشید ترابی نے کہا ہے کہ وقت کا
تقاضہ ہے کہ عمران خان، بلاول سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے قومی قائدین
آزادکمشیر کا دورہ کریں تاکہ بھارتی بربریت کا مقابلہ کرنے والے کشمیریوں
سے اظہاریکجہتی کیا جا سکے۔
کراچی پریس کلب میں میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے ہوئے جماعت اسلامی آزاد کشمیر
کے امیر عبدالرشید ترابی نے کہا کہ بھارت گزشتہ بیس ہفتوں سے مکمل کرفیو
مساجد میں نماز جمعہ تک ادا کرنے پر پابندی ہے پندرہ ہزار سے زائد ہمارے
نوجوان بینائی سے محروم ہوگئے، ان تمام حقائق کو چھپانے کے لیے بھارت نے
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت فلاحی اداروں پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ بین
الااقوامی دباؤ کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے واری نیلم کا پوار ایک ضلع
محصور کردیا ہے اسکولز کالجز اور ہسپتالوں پر بھارت کی شیلنگ جاری ہے۔
آزاد کمشیر میں جماعت اسلامی کے امیر عبدالرشید ترابی نے کہا کہ بھارت پانی
بند کرنے کی کھلی دھمکیاں دی جارہی ہیں، پاکستان کی سلامتی کے خلاف اعلان
جنگ ہے وزیر اعظم پاکستان ایک قومی وفد تشکیل دے کر بین الااقوامی مقدمے
میں خود نمائندگی کریں سیاسی قیادت سے اپیل ہے کہ وہ ازاد کشمیر کا دورہ
کریں اور بھارت کی جارحانہ اقدامات کا مشاہدہ کریں حق خود ارادیت کشمیریوں
کا بنیادی حق ہے اپنے حق کے لئیے اگر ہم نے جدوجہد نہ کی تو مودی سے کوئی
توقع نہیں مودی صورتحال کو جنگ کی طرف لے جارہا ہے مودی رویہ کے خلاف عالمی
سطح پر مہم چلائی جائے۔
آزاد کمشیر میں جماعت اسلامی کے امیر عبدالرشید ترابی نے کہا کہ مودی کو
پیغام دینا چاہتے ہیں وہ اپنا انتہا پسندانہ رویہ ترک کریں پاکستان کو
بھارت سے سفارتی تعلقات بڑھانے چاہئیں محض چند تقاریر اور قرار دادوں سے
مسئلہ کشمیر حل ہونے والا نہیں پارلیمنٹ کی قرار داد پاس کرنے پر شکرگزار
ہیں لیکن قرار داد کا فالو اپ بھی ہونا چاہئے مشرف نے چار نکاتی منصوبہ پیش
کیا تھا اس میں کشمیر کی حق خود ارادیت کو ختم کردیا تھا لیکن اس ابہام کی
اصلاح ہوگئی ہے۔
آزاد کشمیر میں جماعت اسلامی کے امیر عبدالرشید ترابی نے مزیدکہا کہ
ذوالفقار علی بھٹو مسئلہ کشمیر کے ذریعے ہی قومی لیڈر بنے تھے کیونکہ
معاہدہ تاشقند کے بعد بھٹو پوری کا بڑا کارنامہ تھا اسی لیے بلاول
بھٹوزرداری سے بھی کہتے ہیں کہ وہ کشمیر کا دورہ کریں کشمیری بھی یہی توقع
رکھتے ہیں کہ سیاسی قیادت ہمارے درمیان ہے۔