div align="right">جماعت
اسلامی نے دھمکی دی ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے دو ماہ کے اندر اندر قبائلی
جرگے کی جانب سے مطالبات کے حوالے سے پیش کردہ رپورٹ پر عمل در آمد نہ کیا
تو قبائلیوں کے ساتھ مل کر اسلام آباد کا رخ کریں گے۔
مرکز اسلامی پشاور میں قبائلی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت قبائلی عوام پر
اپنی مرضی مسلط نہ کرے، فاٹا کو جیل بنا کر ایک کروڑ عوام کو قیدی بنا رکھا
ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے قبائلی عوام کو بنیادی انسانی حقوق دینے کی بجائے
ایف سی آر کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ قبائلی
عوام عدالتیں، سکول، کالجز اور ہسپتال چاہتے ہیں، ایف سی آر ختم کر کے
قبائلی رہنماؤں کو اسمبلیوں میں جائز نمائندگی دی جائے۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ ملک میں جس جس نے کریشن کی ہے سب کا احتساب ہونا
چاہیے، پاناما لیکس سمیت قرضے لینے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں
نے عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک کمیشن بنائے سب سے پہلے میں احتساب کے
لئے پیش ہونگا۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ احتساب کا آغاز
1947ء سے ہونا چاہئے اگر ایسا ہوا تو ان کی باری قیامت تک نہیں آئے گی،
احتساب کا عمل 2016ء سے شروع ہونا چاہیے۔