Dec 04, 2016 11:13 pm
views : 915
Location : Ministry of Foreign Affairs Office
Islamabad- Adviser PM on Foreign Affairs Sartaj Aziz Press Conference
اسلام آباد، اشرف غنی نے بھارت کو خوش کرنے کیلئے پاکستان کیخلاف بیان دیا، سرتاج عزیز
div>مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے
کیلئے دہشتگردی کا شوشہ چھوڑا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اشرف غنی کا بیان
ناقابل فہم اور قابل مذمت ہے۔
مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھارت کے شہر امرتسر
میں منعقد ہونے والی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں شرکت کے بعد وطن واپس
پہنچنے کے بعد دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہارٹ آف
ایشیاء کانفرنس میں یکطرفہ تصویر پیش کی گئی۔
مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ ہارٹ آف
ایشیاء کانفرنس افغانستان سے متعلق تھی اور ہماری خواہش تھی کہ پاک بھارت
تعلقات افغانستان میں قیام امن کو متاثر نہ کریں۔
مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارتی
میڈیا نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کیلئے دہشتگردی کا شوشہ چھوڑا۔ ان کا مزید
کہنا تھا کہ اشرف غنی کا بیان ناقابل فہم اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے مزید
کہا کہ اشرف غنی نے بھارت کو خوش کرنے کیلئے بیان دیا۔
مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے مزید کہا کہ میری اشرف غنی سے بھی ملاقات ہوئی اور میں نے انہیں
یقین دلایا کہ پاکستان افغانستان میں امن کے قیام کی خواہش رکھتا ہے۔ انہوں
نے مزید کہا کہ میں نے افغان صدر پر واضح کر دیا کہ پاک افغان سرحد پر
سکیورٹی کا مؤثر انتظام ضروری ہے۔
مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سکیورٹی
کی صورتحال نہایت کشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری دیگر ممالک کے وفود سے
بھی ملاقاتیں ہوئیں جو نہایت مفید رہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان
اور بھارت میں کوئی بھی حملہ ہو الزام پاکستان پر لگا دیا جاتا ہے حالانکہ
ہم امن کو فروغ دینے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھا رہے ہیں۔
مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نہ جاتا تو الٹا اثر ہوتا، انہیں پروپیگنڈا
کا موقع مل جاتا کہ پاکستان کو سارک سے بھی نکال دیا اور ہارٹ آف ایشیاء
سے بھی نکال دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اجیت ڈوڈل سے صرف اتنی بات ہوئی کہ اگر
ایل او سی پر کشیدگی رہے گی تو بات چیت اور تعلقات کیسے بہتر ہوں گے۔
مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ کشیدگی کے باوجود بھارت جانے کا فیصلہ درست تھا، بھارتی
میڈیا نے مجھے ہوٹل سے باہر نہیں آنے دیا، بھارت نے سکیورٹی کے نام پر
صحافیوں سے بات نہ کرنے دی جس کی وجہ سے یہاں واپس آ کر صحافیوں سے بات
کرنے کا فیصلہ کیا۔
مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے مزید کہا کہ نہ تو کانفرنس میں جاتے وقت پاک
بھارت تعلقات میں کسی بریک تھرو کی توقع تھی اور نہ ہی ایسا کچھ ہوا۔
مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے مزید کہا کہ مجھے 40 منٹ نہیں روکا گیا ءیہ خبر غلط ہے لیکن
میڈیا کے ساتھ وہاں برا سلوک ہوا، مجھے سمجھ نہیں آئی کہ انہوں نے مجھے
میڈیا سے بات کرنے سے کیوں نہ روکا۔
مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے مزید کہا کہ افغانستان
کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب نہیں ہوں گے، اس سلسلے میں بھارت کی کوششیں
ناکام ہوں گی، ہمارے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہت گہرے اور تاریخی ہیں۔