کراچی، جے یو آئی کے تحت سندھ اسمبلی کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کی آڑ میں غیر اسلامی وغیر آئینی بل کے خلاف اے پی سی کا انعقاد
جمعیت علماء اسلام سندھ کے زیر اہتمام سندھ اسمبلی کی جانب سے اقلیتوں کے
حقوق کی آڑ میں غیر اسلامی وغیر آئینی بل کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس کا
انعقاد کیا گیا۔ کراچی پریس کلب میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں مذہبی
جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
جمعیت علماء اسلام کے اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ آج کی اے پی سی میں جمعیت
علماء اسلام کی سربراہی میں ایک رابطہ کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے ،جو اس نازک
مسئلے پر تمام مذہبی جماعتوں کی مشاورت سے آئندہ کے لائحہ عمل کو منظم کرے
گی۔ کمیٹی میں اے پی سی میں شامل تمام جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔
آئندہ جمعۃ المبارک کو سندھ بھر میں یوم احتجاج منایا جائے گا۔
جمعیت علماء اسلام پہلے ہی فیصلہ کرچکی ہے کہ سندھ بھر میں اضلاع کی سطح پر
احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔ سندھ بھر کے مسائل کے خلاف
،وسائل کے حصول کیلئے اور اس بل پر آج کی اے پی سی جے یو آئی کے احتجاج کی
حمایت کرتی ہے۔ سندھ حکومت کو پندرہ دن کا وقت دیا جاتا ہے اگر سندھ حکومت
نے یہ بل واپس نہیں لیا تو پھر سندھ اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا اور
دھرنے دیئے جائیں گے۔
گورنر سندھ قطعاً اس بل پر دستخط نہ کریں۔ بحیثیت ایک سچے مسلمان اور محب
وطن سابق چیف جسٹس پاکستان اسے مسترد کریں۔ پوری سندھ اسمبلی اسلام کے مراد
کو نہیں سمجھتی ۔یہ لوگ اپنے حلف کو نہیں سمجھتے اور نہ آئین کو سمجھتے
ہیں۔ یہ لوگ نااہل ہوچکے ہیں۔ انہیں اپنے ایمان کی تجدید کرنی چاہیے۔ ان
ارکان جنہوں نے اس بل کو پاس کیا ہے ان کا ایمان مشکوک ہوچکا ہے۔
اے پی سی صوبائی نظریاتی کونسل کے قیام کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتی ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کی موجودگی میں یہ ایک نیا شوشا ہے جو کسی صورت قبول
نہیں کریں گے۔
اسلامی نظریاتی کونسل فوری طور پر اس غیر آئینی اور غیر اسلامی بل کو مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی رائے سے قوم کو آگاہ کرے۔
اے پی سی میں مطالبہ کیا گیا کہ قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبے کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام سے موسوم کیا جائے۔