کراچی، سندھ میں کام نہ کرنے والے پنجاب میں آکر باتیں کرتے ہیں ، سعد رفیق
کراچی میں لوکو شیڈ کینٹ اسٹیشن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سعد
رفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے کی تباہی کا آغاز 1972 سے شروع ہوا اور
40 سال سے ریلوے زبوں حالی کا شکار ہے اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ 4 سے 5 سال
میں سب ٹھیک ہوجائے گا تو سب جھوٹ ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ میں عمران خان نہیں جو 3 ماہ کے اندر ریلوے ٹھیک کرنے
کا دعویٰ کردوں 40 سال کی تباہی ختم کرنے کیلئے 10 برس درکار ہیں نعروں سے
کام نہیں چلتا بلکہ کام کرنے سے بات بنتی ہے سب کو مزدور بن کر کام کرنا
ہوگا۔ ریلوے اب بھی 27 ارب روپے کے خسارے میں ہے، اگر ریلوے ملازمین محنت
کرتے تو محکمے کے حالات بہتر ہوتے ہم نے ریلوے کی بحالی اور اپ گریڈیشن کا
چیلنج قبول کیا ہے، 35 کروڑ کی لاگت سے ریلوے کوارٹرز بنارہے ہیں اور ریلوے
کا خسارہ بھی بتدریج کم کررہے ہیں 2017 کے آخر میں ریلوے سروس اسٹرکچر دے
کر جائیں گے اور اگر عوام نے 2018 کے انتخابات میں نواز شریف کو ایک بار
پھر منتخب کردیا تو کام کی رفتار دگنی کردیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سی پیک
کا معائنہ کیا تو جو باتیں سن رکھی تھیں ان کے بالکل برعکس دیکھا، سی پیک
کو کامیاب کرنا ہے یہ ہمارے بچوں کا مستقبل ہے۔ سرکلر ریلوے 20 سال پہلے
بننا چاہئے تھا لیکن کسی حکومت نے اس جانب توجہ نہیں دی سرکلر ریلوے کے لئے
سندھ حکومت سے بھرپور تعاون کیا جائے گا۔