اسلام آباد، بھارتی قیادت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات خطے کے امن کے لئے خطرہ بن گئے ہیں،تسنیم اسلم
ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خارجہ تسنیم اسلم نے کہا ہے پاکستان اور بھارت کے
درمیان نہ ہی کوئی مذاکرات ہیں نہ ہی کوئی بیک ڈور رابطے ہمیں تعلقات کو
معمول پر لانے کے لیے مزاکرات کی ضرورت ہے، بھارتی قیادت کے غیر ذمہ دارانہ
بیانات خطے کے امن کے لئے خطرہ بن گئے ہیں۔
اسلام آباد میں جنوبی ایشیا میں امن و استحکام سے متعلق سیمینار سے خطاب
میں ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خارجہ تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں
میں دن بدن اضافہ اور بھارتی قیادت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات خطے کے امن
کے لئے خطرہ بن گئے ہیں۔
ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خارجہ تسنیم اسلم نے کہا کہ بھارت ایٹمی آبدوزیں
تیار کر رہا ہے، بحیرہ عرب کو نیوکلیئرائز کر دیا گیا ہے، بھارت ایل او سی
ورکنگ باونڈری پر مسلسل جارحیت کر رہا ہے، ایسی صورتحال میں پاکستان کے پاس
اپنے دفاع کے لئے تیاری کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ پاکستان خطے میں جوہری
اور روائتی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں۔ہم آئی اے ای کے اصولوں کے مطابق
اپنے دفاع کے لیے کم از کم دفاعی قوت رکھتے ہیں، ہم خطے میں امن و استحکام
کے لئے کام کرنے کے لیے تیار ہیں، پاکستان ایٹمی عدم پھیلاؤ کا حامی اور
قوانین کا پابند ملک ہے۔
تسنیم اسلم نے کہا کہ این ایس جی کے حوالے سے بھارت کو ترجیح دینا خطے میں
عدم استحکام کا باعث بنے گا، اب این ایس جی ممالک کو فیصلہ کرنا ہوگا،
بھارت کو ترجیح دینے سے این ایس جی کی ساکھ متاثر ہوگی، پاکستان تکنیکی اور
قانونی اعتبار سے این ایس جی کی رکنیت کا مستحق ہے۔
ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خارجہ تسنیم اسلم کاکہنا تھا کہ پاکستان بھارت کے
ساتھ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کرنے کو تیار ہے، بھارت میں شائنگ انڈیا
کے دعوؤں کے باوجود خطے میں غربت سے نیچے رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد
رہتی ہے، خطے سے غربت کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پر
لانا ہوگا، بھارت ہم پر غیر ریاستی دہشت گردی کا الزام تو لگاتا ہے تاہم ہم
بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں، ہمارے پاس بھارت کی پاکستان میں
مداخلت کے ثبوت موجود ہیں۔ بھارت را کے ذریعہ پاکستان میں دہشت گردی کروا
رہا ہے۔ بدقسمتی سے بھارت اور پاکستان کے تعلقات ماضی کی جانب رواں ہیں،
بھارت کی جانب سے جارحانہ بیانات اور سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوے اشتعال
انگیز ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی تغیراتی ہے جو کہ حالات کے مطابق چلتی ہے،
خارجہ پالیسی ریاستی و ملکی مفادات کے تابع ہوتی ہے، جس میں تمام حالات کو
ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔