Dec 14, 2016 10:48 pm
views : 982
Location : Idara Noor-e-Haq
Karachi- MYC to observe protest day in Sindh against controversial bill
کراچی، تبدیلئ مذہب کا بل غیر اسلامی و غیر آئینی ہے ، واپس لیاجائے ، جمعہ کو یوم احتجاج منایا جائے گا، ملی یکجہتی کونسل
ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر
اور سیکریٹری لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ سندھ اسمبلی سے اقلیتوں کے نام پر
قبول اسلام روکنے پرکی جانے والی قانون سازی اسلامی تاریخ ، قرآن و سنت اور
آئین پاکستان کے خلاف ہے ، اسلام میں جبراً اسلام قبول کرانے کی اجازت
نہیں ، جبراً قبول اسلام سے روکنا بھی بنیادی اسلامی اور انسانی حقوق کی
خلاف ورزی ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں پاکستان کو سیکولر ملک بنانے اور
اغیار کی ذہنی غلامی کا قبیح کھیل بند کردیں،بل کی منظوری کے خلاف جمعہ
16دسمبرکو سندھ بھر میں یوم احتجاج منایا جائے گا۔ وفاقی اور صوبائی
حکومتیں مساجد اور مدارس کے خلاف سازشیں بند کریں ، منفی اور اسلام مخالف
رویہ ناقابل برداشت ہے ، قومی ایکشن پلان کی آڑ میں علماء اور دینی
نوجوانوں کی گرفتاریاں قابل مذمت ہیں۔ بارہ ربیع الاول کو میلادالنبی ؐ کے جلوس
پر چکوال میں قادیانیوں کی فائرنگ سے دو نوجوانوں کی شہادت صریحاً دہشت
گردی اور فساد پھیلانے کی سازش ہے۔ قادیانی ہیڈ کوارٹر سے شر انگیز لٹریچر ،
شیعہ سنی فساد کے لیے تکفیری مواد پر مبنی بڑے پیمانے پر لٹریچر کی
برآمدگی تشویشناک ہے۔ حکومت امتناع قادیانیت قانون پر سختی سے عمل درآمد
کرے۔ پی آئی اے حادثہ پر افسوس کااظہار ، شہداء کے لیے دعائے مغفرت کرتے
ہیں ، جنید جمشید کا دینی ، تبلیغی اور عشق رسول ؐ کا کردار ہمیشہ یاد
رکھاجائے گا۔کراچی میں امن کی بحالی کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔سندھ میں شراب
کی فروخت کا دھندہ بند کیاجائے،وزیراعلیٰ سندھ ایگزیکٹو اختیارات کے ذریعے
شراب پر پابندی عائد کردیں ۔
ادارہ نورحق میں
ملی یکجہتی کونسل سندھ کے اہم اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے
صاحبزادہ ابو الخیرمحمد زبیر نے کہا ہے کہ 12ربیع الاول کے جلو س پر
قادیانیوں کا حملہ قابل مذمت ہے ، حکومت قادیانیوں کو تحفظ فراہم کررہی ہے
جو قابل تشویش ہے ، امریکہ قادیانیوں کی پشت پناہی کررہا ہے ،حکومت امریکی
غلامی کی وجہ سے قادیانیوں کی حمایت کررہی ہے ، وفاقی اور صوبائی حکومت میں
مقابلہ چل رہا ہے کہ کون زیادہ لبرل اور اسلام مخالف اقدامات کرسکتا ہے ،
سندھ اسمبلی سے منظور ہونے والا بل قرآن سنت اور آئین کے بھی کے منافی ہے ،
ملی یکجہتی کونسل اسلام مخالف بل کے خلاف جمعہ کو پورے سندھ میں یوم
احتجاج منائے گی ، حکومت کو یہ بل واپس لینا ہوگا۔حکومت تحفظ ناموس رسالتؐ
کے بل میں بھی ترمیم کی کوشش کررہی ہے ، حکومت جان لے کہ اس نے پہلے بھی
کوشش کی تھی جس پر عوام نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا تھا اور قوم اب بھی
مزاحمت کرے گی ۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی نے اقلیتوں کے نام پر
قبول اسلام روکنے پر ایسی قانون سازی کی ہے جو اسلامی تاریخ ، قرآن و سنت
اور آئین پاکستان کے خلاف ہے ۔ یہ صریحاً غیر اسلامی اور غیر جمہوری قانون
سازی ہے ۔ اسلام میں جبراً اسلام قبول کرانے کی اجازت نہیں ، جبراً قبول
اسلام سے روکنا بھی بنیادی اسلامی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ سندھ
حکومت اسلام مخالف بل واپس لے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پاکستان کو
سیکولر ملک بنانے اور اغیار کی ذہنی غلامی کا قبیح کھیل بند کردیں ۔ تمام
دینی جماعتیں پاکستان کے اسلامی کردار کی حفاظت ، اسلامی قوانین ،نظام
مصطفی کے لیے مشترکہ تحریک چلائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد اُمت عالم
اسلام کے لیے ناگزیر ہے۔ فلسطین اور کشمیر میں ہنودو یہود کا ظلم ، جبر اور
مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے۔ حلب شام کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے
،عالمی برادری ، عالم اسلام ، انسانی حقوق کے ادارے جانبداری ،بے حسی ترک
کریں اور شام میں ہر طرح کی بیرونی مداخلت بند کرکے امن قائم کیاجائے، شام
کو اجتماعی قبرستان بننے سے بچایاجائے۔ پاکستان ، ترکی ، ایران ، سعودی عرب
،عالم اسلام کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں
وگرنہ پورا عالم اسلام بڑی تباہی سے دوچار ہوجائے گا۔
لیاقت بلوچ کامزید کہنا تھا کہ
کشمیریوں پر مظالم کی انتہا ہوگئی ہے۔ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی اور
کیمیائی ہتھیار استعمال کررہاہے ۔ جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف
ورزی ہے ، انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں ، حکومت پاکستان واضح قومی
کشمیرپالیسی کا اعلان کرے، حکومت مسئلہ کشمیر پرمتفقہ قومی پالیسی سے
انحراف کا سلسلہ بند کرے اور عالمی محاذ پر مسئلہ کشمیر بھرپور تیار ی سے
اٹھایا جائے ۔