Dec 15, 2016 11:46 pm
views : 905
Location : Ministry of Foreign Affairs Office
Islamabad- Foreign Office's Weekly Press Briefing
اسلام آبادپاکستان میں کالعدم تنظیم داعش کی کوئی منظم موجودگی نہیں، ترجمان دفترخارجہ نفیس ذکریا
ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کالعدم تنظیم داعش
کی کوئی منظم موجودگی نہیں ہے جتنے بھی بڑے دہشت گرد مارے گئے وہ
افغانستان میں تھے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں
کالعدم تنظیم داعش منظم نہیں بلکہ جتنے بھی بڑے دہشت گرد مارے گئے وہ
افغانستان میں تھے، افغانستان دہشتگردی میں گھرا ہوا ملک ہے حقانی نیٹ ورک
کے رابطے افغانستان سے ہی ملے ہیں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان
میں قیام امن اور افغان حکومت کے ساتھ بہتر تعلقات کےلئے ہمیشہ قدم بڑھائے
لیکن ملا عمر اور ملا اختر منصور کی ہلاکت کی خبروں کے بعد سے افغان
مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا بہت سے مواقع پر پاکستان نے افغان تجارت کے
واجبات معاف کئے۔
ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے ممکنہ خطرے سے پوری طرح
آگاہ ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بھرپور اقدامات کئے جس کی واضح
مثال آپریشن ضرب عضب ہے جس کے امریکی سینٹر جان مکین بھی متعرف ہیں انہوں
نے وزیرستان کا دورہ کیا اور آپریشن ضرب عضب کی تعریف میں کالم بھی لکھا۔
ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے بھارتی وزیر داخلہ کے پاکستان توڑنے کے بیان پر اظہار مذمت
کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری بھارتی وزیرداخلہ کے پاکستان مخالف بیان اور
خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی
کانوٹس لے جہاں ہزاروں بے گناہ کشمیریوں کی ناحق جانیں لے لی گئی ہیں اور
تاحال مظالم جاری ہیں جبکہ بھارت میں موجود مسلمان، دلت، مسیحی اور سکھ
اقلیتیں شدت پسند تنظیموں آرایس ایس اور شیوسینا سے خوفزدہ اور مظالم کا
شکار ہیں، گزشتہ چند دنوں میں بھارت میں 200 کے قریب چرچ نذر آتش کردئے گئے
جبکہ حریت رہنماؤں کو سیرت النبیﷺ کانفرنس میں شرکت سے بھی روکا گیا لیکن
ان تمام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک
ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا کہ پاکستان نے ہر سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر
کیا اقوام متحدہ سے بھی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کی تحقیقات کا
مطالبہ کیا جبکہ برطانوی پارلیمنٹ میں برطانیہ کے کردار پر بھی سوال اٹھائے
گئے جس کے بعد برطانوی وزیراعظم نے مودی کے ساتھ اس معاملے پر بات بھی کی۔