Dec 22, 2016 04:15 pm
views : 979
Location : Ministry of Foreign Affairs Office
Islamabad- Foreign Office's Weekly Press Briefing
اسلام آباد، اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے،ترجمان دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔
دفترخارجہ اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریانے
کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، 5 ماہ میں
10 ہزار بے گناہ کشمیری گرفتارکیے گئے ہیں، غیرکشمیریوں کو ڈومیسائل دے
کرمقبوضہ کشمیرمیں آباد کیا جارہا ہے جو کہ غیر قانونی ہے، بھارت مقبوضہ
کشمیر میں یو این ملٹری آبزرور گروپ کو رسائی نہ فراہم کر کے بھی اقوام
متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے، پاکستان مقبوضہ کشمیر
میں انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مختلف فورمز پر بارہا
اٹھا چکا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ بھی عالمی سطح پر
اٹھا رہاہے۔
پاک افغان تعلقات کے حوالےترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ پاکستان نے
دہشت گردوں کے خلاف کامیابی سے آپریشن ضرب عضب کامیابی سے کیا، دیگر ممالک
کی جانب سے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں اور قربانیوں کو
بھی سراہا گیا ہے، افغانستان میں امن و امان کا قیام پاکستان کے مفاد میں
ہے، افغانستان میں قیام امن کی غرض سے پاکستان تمام تر کوششیں کر رہا ہے،
پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کا سقوط ڈھاکا سے متعلق بیان،
کلبھوشن یادیو کی پاکستان سے گرفتاری ، بھارتی سفارت خانے میں سفارتی لبادے
میں تعینات را اور آئی بی کے افسران اور بھارتی سلامتی مشیر اجیت دوول کا
بیان پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کے واضح ثبوت ہیں۔ نریندر مودی کے
حالیہ بیان کے بعد یہ معاملہ دوبارہ عالمی برادری کے سامنے اٹھائیں گے۔
سعودی عرب کی جیلوں میں موجود پاکستانی شہریوں سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریانے کہا کہ سعودی عرب کی مختلف جیلوں میں 780 پاکستان مقید ہیں، جن میں 728
پاکستانی سعودی عرب کی مغربی جیلوں میں قید ہیں۔ پاکستانی سفارت خانہ ان کی
امداد کررہا ہے اور انہیں لیبر کورٹ کی سہولیات بھی فراہم کر رہا ہے۔
پاکستانی قونصل خانوں میں روزانہ کی بنیاد پر 160 سے 170 پاکستانیوں کے کیس
دیکھے جا رہے ہیں۔