لاہور،وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف سے بوستان کالونی، کوٹ لکھپت کے رہائشی 18سالہ مقتول ثاقب علی کے والدین کی ملاقات
لا ہو ر میں وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف سے بوستان کالونی، کوٹ لکھپت کے
رہائشی 18سالہ مقتول ثاقب علی کے والدین نے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران
وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شر یف نے نوجوان بیٹے کے قتل پر غمزدہ خاندان
سے دکھ اورافسوس کا اظہار کیا۔
اس مو قع پر وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شر یف کا کہناتھا کہ میں آپ کا
جگر گوشہ تو واپس نہیں لاسکتالیکن میرا وعدہ ہے کہ آپ کو انصاف ضرور دلاؤں
گا۔آپ کو نہ صرف انصاف ملے گابلکہ انصاف ہوتا ہوا بھی نظر آئے گا۔قتل کیس
کی تحقیقات چار روز کے اندر مکمل کر کے اصل ملزم گرفتارکیے جائیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شر یف نے تفتیش کے دوران مقتول کے والدین سے
رابطہ نہ رکھنے پر متعلقہ انویسٹی گیشن افسران کے رویے پر سخت برہمی کا
اظہار کیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شر یف کا کہناتھا کہ یہ غریب لوگ ہیں اور ان
کی کوئی سفارش ہے نہ ان کے پاس پیسہ ہے۔جن کا بیٹادنیا سے چلا جائے،اس کے
دکھ کا اندازہ صرف وہی ماں باپ کرسکتے ہیں۔متعلقہ انویسٹی گیشن افسران کا
رویہ انصاف کے تقاضوں کیخلاف رہا ہے۔اگر کسی بڑے کا بیٹا ہوتا توانویسٹی گیشن افسران کارویہ کسی صورت یہ نہ ہوتا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شر یف کا کہناتھا کہ یہاں غریب کا بیٹا قتل
ہوا اورمتعلقہ انویسٹی گیشن افسران نے متاثرہ خاندان سے رابطہ کرناگوارا نہ
کیا۔انویسٹی گیشن افسران نے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے۔کیس کی تفتیش
کرنیوالے انویسٹی گیشن افسر کی جانب سے مقتول کے والدین سے رابطہ نہ کرنا
افسوسناک امر ہے۔یہ کہاں کا انصاف ہے ؟
وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شر یف نے متعلقہ انویسٹی گیشن انسپکٹراور سب
انسپکٹر کو معطل اوراے ایس پی انویسٹی گیشن کواوایس ڈی بنانے کا حکم دیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شر یف نے ہد ایت کی کہ دونوں انویسٹی گیشن افسروں کیخلاف محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔
وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شر یف نے مقتول ثاقب کے والدین کو 10لاکھ روپے کی مالی امداد کا چیک بھی دیا۔
واضح رہے کہ بوستان کالونی کوٹ لکھپت کے 18سالہ ثاقب علی کو قتل کرکے لاش
گندا نالہ گرین ٹاؤن میں پھینک دی گئی۔مقتول کے والد محمد نذیر سبزی فروخت
کرتے ہیں جبکہ والدہ وزیراں بی بی گھریلوخاتو ن ہیں۔
انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب،سیکرٹری داخلہ،سیکرٹری پراسکیوشن،ڈی جی پنجاب
فرانزک سائنس ایجنسی،سی سی پی او لاہوراورمتعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود
تھے۔