Oct 28, 2017 07:41 pm
views : 510
Location : CM Secritariat
Karachi- CM Sindh Syed Murad Ali Shah chairs Cabinet Meeting
کراچی ، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس
سندھ کابینہ نے آئی جی پولیس سندھ اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کی منظوری دے دی۔
ترجمان وزیر اعلی ٰ ہاؤس کے مطابق کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ
ہم محکمہ پولیس میں ترقیوں، تقرریوں اور تبادلوں سے متعلق قواعد کو آئین و
قانون کے مطابق بنانا چاہتے ہیں، ہم ایسے قواعد چاہتے ہیں جس سے پولیس کی
کارکردگی میں بہتری آئے ہو اور سیاسی حکومت کی رٹ قائم رہے۔
اجلاس کے دوران کابینہ کو بتایا گیا کہ مارچ 2016 میں اے ڈی خواجہ کو او پی
ایس پر آئی جی لایا گیا، سپریم کورٹ نے تمام او پی ایس پر پوسٹنگز ختم
کردی ہیں اس لئے سندھ حکومت اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کو واپس کرے۔ کابینہ
نے اللہ ڈنو خواجہ کو ہٹانے اور ان کی جگہ 22 گریڈ کے افسر مجید دستی کی
بطور آئی جی سندھ تعیناتی کی منظوری دے دی۔
آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کہا کہ ایڈیشنل آئی جی، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی
کی پوسٹنگ 2 سال کے لیے ہوتی ہے، باقی افسران کی تعیناتی کا دورانیہ ایک
سال تجویز کیا ہے۔
اے ڈی خواجہ نے کہا کہ آئی جی کو پولیس افسر کے ٹرانسفر کا اختیار ہونا
چاہیے جب کہ مدت سے قبل کسی افسر کا ٹرانسفر ٹھوس وجوہات پر ہی کیا جائے۔
آئی جی سندھ نے تجویز دی کہ ایس ایچ او اپر اسکول کورس کوالیفائیڈ ہونا
چاہیے، ایس ایچ او کی عمر 55 سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے جب کہ ایس ایچ
اوز کو سب انسپکٹر یا انسپکٹر کے رینک کا ہونا چاہیے۔
آئی جی سندھ کی بریفنگ کے بعد سیکریٹری داخلہ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ
وزیر داخلہ، ایڈووکیٹ جنرل اور سیکریٹری داخلہ کی کمیٹی وزیر اعلیٰ نے قائم
کی تھی، آئی جی سندھ نے پولیس افسران کی 4 کیٹگریز بتائی ہیں، لیکن کمیٹی
نے آئی جی سندھ کی اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔
اے ڈی خواجہ کا کہنا تھا کہ میری بطور آئی جی تعیناتی کے وقت سپریم کورٹ کا
او پی ایس پر فیصلہ موجود تھا، اس وقت تمام صوبوں میں آئی جی گریڈ 21 کے
ہیں، حال ہی میں پنجاب کےآئی جی کی گریڈ 22 میں ترقی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرا آرڈر وفاقی حکومت نےسندھ حکومت کی مرضی کے مطابق کیا،
سندھ حکومت نے تین نام وفاقی حکومت کو بھیجے، اس وقت بھی سندھ میں 21 کے
کئی پولیس افسران موجود تھے۔
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کچھ ماہ سے آئی جی سندھ کو ہٹانے
کی کوشش کررہی تھی تاہم اے ڈی خواجہ نے اپنے تبادلے کے خلاف عدالت سے رجوع
کرلیا تھا اور سندھ ہائی کورٹ نے انہیں کام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔