اسلام آباد ، مردم شماری کے بعد 2018 کے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کے بغیر ممکن نہیں،سیکرٹری الیکشن کمیشن
سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے بعد 2018 کے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کے بغیر ممکن نہیں۔
الیکشن کمیشن کے زیر اہتمام عام انتخابات 2018 کی تیاریوں سے متعلق میڈیا
ورکشاپ کا انعقاد ہوا جس میں حکام الیکشن کمیشن کاکہنا تھا کہ الیکشن ایکٹ
2017 سے مالی اور انتظامی خودمختاری ملی ہے، آئندہ عام انتخابات کے لیے
انتخابی مواد کی خریداری کا عمل جاری ہے اور آئندہ عام انتخابات میں اضافی
بیلٹ پیپرز نہیں چھاپے جائیں گے۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب کا کہنا تھا کہ شفافیت کے لیے واٹر مارک
بیلٹ پیپرز چھاپے جائیں گے، آئندہ عام انتخابات میں ریٹرننگ آفیسر عدلیہ سے
بھی لئے جاسکتے ہیں، سنجیدہ امیدواروں کو سامنے لانے کے لیے کاغذات
نامزدگی کی فیس بڑھا دی ہے، قومی اسمبلی کے امیدوار 30 ہزار جب کہ صوبائی
اسمبلی اور سینیٹ کے امیدوار 20،20 ہزار فیس جمع کرائیں گے، قومی اسمبلی
امیدوار 40 لاکھ، صوبائی اسمبلی 20 لاکھ اور سینیٹ امیدوار 15 لاکھ تک
انتخابی اخراجات کر سکیں گے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ایک پولنگ اسٹیشن میں زیادہ سے زیادہ بارہ سو ووٹرز
ہوں گے، ریٹرننگ اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسر کی تعیناتی 2 ماہ قبل عمل میں آئے
گی، ایک پولنگ اسٹیشن میں زیادہ سے زیادہ 4 پولنگ بوتھ بنائے جائیں گے،
انتخابات کے لیے انتخابی مواد کی خریداری کا عمل شروع ہو گیا ہے جب کہ
صوبوں نے انتخابات کے لیے اپنی ضروریات سے آگاہ کر دیا ہے۔ عام انتخابات
میں 10 کروڑ سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ امیدوار، پولنگ
ایجنٹس، مشاہدہ کاروں، سیکورٹی اہلکاروں کے لیے ضابطہ اخلاق بنایا جائے گا۔
حکام الیکشن کمیشن کے مطابق موجودہ اسمبلیوں کی مدت 5 جون 2018 کو مکمل
ہوگی اور عام انتخابات جولائی 2018 تک ہونے کا امکان ہے جب کہ آئین کے تحت
اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے کے بعد 2 ماہ کے اندر انتخابات کرانا ہیں، 5 مئی
2018 کو انتخابی فہرستیں منجمد کردی جائیں گی تاہم 5 مئی کے بعد انتخابی
فہرستوں میں کسی ووٹر کو شامل نہیں کیا جائے گا۔