پشاور،صوبائی حکومت کی جانب سے انٹرنل آڈٹ پالیسی کا اجرا
صوبائی حکومت کےاحتساب کے نعرے عملی صورت اختیار کرنے لگے پشاور میں انٹرنل
آڈٹ پالیسی کا افتتاح کر دیا گیا ہے،انٹرنل آڈٹ سے محکموں میں انتظامی و
مالی غلطیوں کی نشاندہی کر کے ان کا سدباب ممکن ہو سکے گا،تقریب کے مہمان
خصوصی وزیر خزانہ مظفر سید نے انٹرنل آڈٹ کو خود احتسابی کا عمل قرار دے
دیا۔
پشاور کے نجی ہوٹل میں انٹرنل آڈٹ پالیسی کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا
گیا،انٹرنل آڈٹ کا مقصد محکموں میں انتظامی و مالی غلطیوں کی نشاندہی کر کے
ان کا سدباب ممکن بنانا ہے۔
اس موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر
خزانہ مظفر سید کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی مثالی حکومت نے انٹرنل آڈٹ
کو عملی شکل دے کر یہ ثابت کر دیا کہ موجودہ حکومت خود احتسابی پر یقین
رکھتی ہے۔
مظفر سید نے وفاقی حکومت پر تنقید کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا کہنے لگے کہ
وفاقی حکومت نے ہمیشہ این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم میں صوبوں کے ساتھ ظلم
کیا۔
تقریب سے خطاب میں سیکرٹری خزانہ شکیل قادر نے کہا کہ اس نظام کے باعث
اداروں پر اضافہ بوجھ نہیں پڑے گا،ڈیرھ سال لگے انٹرنل آڈٹ پروگرام متعارف
کروانے میں،ابتداء میں 13 محکموں تک انٹرنل آڈٹ تک رہے گا جبکہ بعد میں اس
کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔