لاہور،صوبائی وزیر ماحولیات زکیہ شاہنواز کی زیر صدارت ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے اجلاس
صوبائی وزیر ماحولیات زکیہ شاہنواز کا کہنا ہے کہ عوام کو پلاسٹک لفافوں کے
بجائے کپڑے کے تھیلوں کا استعمال کرنا ہوگا،اگر ایسا نہیں ہوگا تو آنے
والی نسلیں متعدد بیماریوں کا شکار ہوسکتی ہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نیسلے اور نجی بنک کے تعاون سے ڈبلیو ڈبلیو ایف
پاکستان کی سالانہ گرین آفس نیٹ ورک میٹنگ منعقد کی گئی،میٹنگ کا مقصد
پاکستان میں ماحولیاتی استحکام لانے والے اقدامات کی پذیرائی جس میں خصوصاً
پلاسٹک سے بنی ہوئی اشیاء کے استعمال میں کمی لانا ہے ۔
اجلال سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرماحولیات بیگم ذکیہ شاہنواز نے کہا کہ
اگر پلاسٹک استعمال کریں گے تو ہر جگہ پلاسٹک ہی نظر آئے گاجو سر زمین کو
ختم کر دے گا اور اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے ،ْانہوں نے کہا کہ آپ
پلاسٹک کا استعما ل ختم کریں اور پلاسٹک انڈسٹری کو نئی ایجادات کے متعلق
سوچنا چاہئے ،صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام کے شعور کے بغیر گورنمنٹ کے سب
اقدامات بیکار ہیں لہذاپلاسٹک کو کم کرنے کے لیے عوام کو پلاسٹک لفافوں کے
بجائے کپڑے کے تھیلوں کا استعمال کرنا ہوگا،اگر ایسا نہیں ہوگا تو آنے
والی نسلیں متعدد بیماریوں کا شکار ہوسکتی ہیں۔
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ڈبلیوایف پاکستا ن حماد نقی خان نےاپنے
خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ پلاسٹک کے استعمال اور اس کے
اضافے کی بدولت ہمارے سمندروں میں آبی حیات پر تباہ کن اثرا ت مرتب ہو رہے
ہیں اس لیے یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ ہم سب مل کر ایسی پلاسٹک
کی اشیاء جن کا استعمال صرف ایک مرتبہ ہی کیا جاتا ہے اُس پر غوروفکر کریں
،ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی ایک رپورٹ کے تحت 2050 تک سمند ر میں پلاسٹک
کی مقدارزیادہ اور مچھلیاں کم ہو جائیں گی لہذا ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے
ہوئے حکومتی اور پرائیویٹ اداروں کو مل کر پلاسٹک کے استعمال میں کمی لانے
کے لیے کام کرنا چاہئے ۔
ایک روزہ کانفرنس میں ملک کے تعلیمی اور کاروباری شعبہ جا ت سے تعلق رکھنے والے نمایاں افراد نے شرکت کی ۔