پشاور ، خیبر پختونخواہ میں جنسی اور صنفی تشدد کے واقعات میں خوفناک اضافہ
پشاورسمیت خیبر پختونخواہ میں جنسی اور صنفی تشدد کے واقعات میں خوفناک اضافہ ہوگیا ہے۔
سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہناتھا کہ روزانہ ایک خاتون گھریلوں تشدد کا
نشانہ بن رہی ہے ، بل اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔
خیبر پختونخواہ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیاہے
کہ بچپن کی شادیو ں کی روک تھام اور گھریلوں تشدد کے خاتمے کا بل بلا تاخیر
اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے ۔
پشاور پر یس کلب میں سول سوسائٹی کے نمائندے قراتلعین ہاشمی چائلڈ رائٹس
ایکٹیوسٹ عمران ٹکر ، راویش سنگھ ٹونی اور دیگر نے پشاور پریس کانفرنس کرتے
ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں خیبر پختونخواہ میں جنسی اور صنفی تشدد میں
بے پناہ اضافہ ہو ا ہے جو کہ قابل افسوس ہے اور صوبے میں اس کی روک تھام
کیے لیے کوئی ٹھوس قانون نہیں بنا جو کہ لمحہ فکریہ ہے ۔
اس موقع پر سول سوسائٹی کی نمائند ہ قراتلعین ہاشمی نے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائند ؤ ں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
چائلڈ رائٹس ایکٹیوسٹ عمران ٹکر نے کہا کہ