اسلام آباد ، لاڈلے کو دہشتگردی کے مقدمات کے باوجود استثنیٰ مل گیا، مریم اورنگزیب
احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز
شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف قطری خط سمیت تین اضافی
دستاویزات بطور شواہد پیش کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔شریف
خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر جے آئی ٹی کے
سربراہ واجد ضیاء آج تیسری بار اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نیب کی جانب سے ملزمان کے خلاف قطری خط سمیت تین
اضافی دستاویزات بطور شواہد پیش کرنے کے لیے درخواست دائر کی گئی۔
وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ
بناتے ہوئے کہا کہ ایس ایس پی تشدد کیس میں لاڈلے پر دہشت گردی کی دفعات
تھیں جس پر اسے استثنیٰ مل گیا لیکن ایک شوہر کو بیوی کی عیادت کے لئے جانے
کی اجازت نہیں دی جارہی۔
احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ ایک
عدالت میں اُسے استثنیٰ نہیں دیا جا رہا جو ہفتے میں تین تین دن پیش ہو رہا
ہے اور ساتھ والی عدالت سے لاڈلے کو استثنیٰ مل گیا۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ شوہر اور بیٹی کلثوم نواز کی عیادت کے لئے
جانا چاہتے ہیں مگر اجازت نہیں دی جا رہی اور جس پر دہشت گردی کے مقدمات
ہیں وہ استثنیٰ حاصل کرلیتا ہے۔پوری دنیا جانتی ہے کہ زرداری صاحب کا نیب
کورٹ سے ریکارڈ غائب ہو ا اور وہی نیب اس پر ریفرنس کے ریفرنس بنا رہی ہے
جس کے خلاف ایک روپے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ آج بھی جو صندوق بھر کر لائے جا رہے ہیں ان میں
کچھ نہیں، ایک دفعہ وزیراعلیٰ اور 3 مرتبہ وزیراعظم رہنے والے کے خلاف
کرپشن کا ایک ثبوت نہیں آیا۔عمران خان کو جھوٹوں کے دورے پڑتے ہیں، 2013 سے
اب تک ان کا جھوٹ اور الزامات کا وطیرہ نہیں بدلا جب کہ خیبرپختونخوا میں
کسی اسپتال اور اسکول کی حالت زار بہتر نہیں کی جاسکی۔