اسلام آباد،ملالہ یوسف زئی کا وزیر اعظم ہاؤس میں تقریب سے خطاب
نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے پاکستان آمد پر خوشی اظہار کیا ،ملالہ
نے کہا کہ مجھے علاج کے لیئے باہر جانا پڑاورنہ اپنے ملک کو چھوڑ کر کبھی
نہ جاتی ۔
نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی پانچ سال بعد پاکستان لوٹی تو وزیر اعظم
ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور آبدیدہ ہوگئیں
،ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ یقین نہیں آرہا کہ میں پاکستان میں ہوں،جہاں
بھی سفر کرتی تھی تو تصور کرتی تھی کہ میں پاکستان میں ہوں ۔
ملالہ یوسف زئی نے اپنی زندگی کے بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی بیس سال
کی ہوں ،زندگی میں بہت کچھ دیکھا اگر چاہتی توکبھی بھی اپنے ملک کو نہیں
چھوڑتی ، ڈاکٹروں نے میری سرجری کی اور مجھے علاج کے لیئے باہر جاناپڑ
ا،وہیں پر اپنی تعلیم مکمل کی ۔
ملالہ نے پاکستان سے اپنی محبت کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ
سے یہی خواب تھا کہ پاکستان جاوں ،یہاں کی گلیوں میں بنا کیسی خوف اور ڈر
کے گھوموں ،اپنے لوگوں سے ملوں ،اپنے آبائی گھر جاوں ،ملالہ یوسف زئی نے
کہا کہ میری خواہش ہے کہ سب کچھ پہلے جیسا ہوجائے
ملالہ یوسف زئی نے پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ
پاکستان کا مسقبل یہان کے بچے ہیں،ملالہ نے کہا کہ ہمیں بچوں کی تعلیم میں
سرمایہ کاری کرنی چاہیئے ۔