کراچی ،گرمی بڑھتے ہی لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو،بجلی کی آنکھ مچولی نے عوام کا جینا محال کردیا
کراچی میں گرمی بڑھتے ہی لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو ہوگیا،بجلی کی آنکھ مچولی
نے عوام کا جینا محال کردیا،شہر کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے لوڈشیڈنگ
کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث نہ صرف عوام بے حال ہیں بلکہ کاروباری حضرات
بھی کے الیکٹرک سے نالاں دیکھائی دیتے ہیں۔
درجہ حرارت کے مقابلے میں بجلی کا شرٹ فال تیزی سے بڑھنے لگا ،مختلف علاقوں
میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ تین سے بڑھا کر چار گھنٹے کردیا گیا ،کے الیکٹرک
کی جانب سے اضافی بلنگ پر بھی عوام شکایات کرتے دیکھائی دیئے ۔
کے الیکٹرک کی جانب سے شہر میں کی جانے والی لوڈ شیڈنگ پر ایک دوکاندار
تیمور نے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہرسال
لوڈشیڈنگ میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ ہورہا ہے ۔حکومت کی جانب سے دعوے تو
کیئے جاتے ہیں لیکن عمل درآمد نہیں کیا جاتا ، لوڈشیڈنگ کے باعث کاروبار
بھی بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔
ایک بزرگ شخص سید مسعود علی ہاشمی کا بجلی کی بندش کے حوالے سے کہنا تھاکہ
کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی بندش کے باعث برا حال ہے ،کے الیکٹرک کی
جانب سے بلز تو ہزاروں میں دیئے جاتے ہیں،لیکن بجلی فراہم نہیں کی جاتی ۔
ایک اور دوکاندار حبیب کا کہنا تھا کہ گھر میں بجلی نہ ہی مارکیٹ میں
کاروبار کریں بھی تو کیسے،دوکان میں بجلی نہ ہونے کے باعث کسٹمر بھی واپس
لوٹ جاتے ہیں ،حکومت کی جانب سے دوہزار سولہ میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کاوعدہ
وفا نہ ہوسکا اور لوڈشیڈنگ میں کمی ہونے کے بجائے اضافہ ہوگیا۔
ایک اور شخص امین نے لوڈشیڈنگ سے ہونے والی پریشانی کے حوالے سے اپنی آپ
بیتی بھی سناہی دی امین نے کہا کہ ملک میں دس بارہ سال سے لوڈشیڈنگ چلی
آرہی ہے،کمرشل علاقوں کی بجلی کی بندش سے کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے ۔