اسلام آباد،حکومت نے انکم
ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں
کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے،وزیر اعظم
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ حکومت نے انکم ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے، ٹیکس وصولیوں کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ہوگا اور ہر شہری کے شناختی کارڈ کا نمبر ہی اس کا آئندہ ٹیکس نمبر ہوگا،جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک بھر میں صرف سات لاکھ لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں،حکومت نے انکم ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے,وزیراعظم نے کہا کہ جن لوگوں کے اثاثے بیرون ملک ہیں وہ دو فیصد جرمانہ ادا کر کے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، ٹیکس وصولیوں کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ہوگا اور ہر شہری کے شناختی کارڈ کا نمبر ہی اس کا آئندہ ٹیکس نمبر ہوگا،جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے ان کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں،جوبھی ایمنسٹی سکیم حاصل کرے گا وہ ٹیکس دہندہ ہوگا جبکہ ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ، ملک سے باہرغیرملکی کرنسی اکاؤنٹ رکھنے پرپانچ فیصدٹیکس دینا ہوگاجبکہ ملک کے اندر جنہوں نے اثاثے ظاہر نہیں کیے وہ تین فیصد پینلٹی دے کر ٹیکس نیٹ میں شامل ہوسکتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سب پاکستانی ہیں اور یہ سکیم پانامہ والوں کیلئے بھی ہے لیکن اگر آپ جائیداد کی درست قیمت نہیں بتا رہے تو حکومت پاکستان کا نقصان کررہے ہیں۔