کوئٹہ،بھیڑکے بالوں سے دیدہ ز یب قا لین گرم شالیں اور بستر سمیت دیگراشیاءکی تیاری
بلو چستان کے علا قے منگچرمیں بھیڑکے بالوں سے دیدہ ز یب قا لین گرم شالیں اور بستر سمیت دیگراشیاءبنائی جاتی ہیں،ہاتھوں سےبنائی گئی مصنوعات کافی محنت طلب ہیں،جن کی مانگ بھی زیادہ ہےمگر جدید مشینری نےاس روزگار سےوابستہ افراد کو بے حد متا ثر کیاہے۔
یہ مناظر بلوچستان کے علا قے منگچرکے ہیں،جہاں آبادبلو چ قبیلےسےتعلق رکھنے والے افرد کا ذریعہ معاش غلہ بانی ہے،اس علاقے کے افراد سال میں دو مرتبہ اپنے مو یشیوں کے بال اتارتے ہیں،اس عمل کو بلو چی،براہوی اور پشتو زبان میں پشم کہتے ہیں،یہ افرادمویشیوں کے بالوں سے اون بنا کر کھڈی پران سےدیدہ زیب قا لین ، گرم شالیں ،گدان ، تکیے اور گھریلواستعمال کی دیگر اشیا بناکرفروخت کر تےہیں مگر اب دور جدید میں ہاتھ کی بنی مصنوعات کی جگہ جد ید مشینری نےلےلی، جس سے اس روزگار سےوابستہ افراد متاثر ہو رہے ہیں
بلو چی زبان ثقافت کے مصنف اور بلوچستان کی تا ریخ پر تحقیق کرنے والےپناہ بلوچ کا کہنا ہے کہ پہلےحکومت کی جانب سے بلو چستان میں بچوں کوقالین بافی کا ہنر سکھا یاجاتا ہے جواب مختلف علا قوں میں بند ہو چکا ہےجبکہ 1971میں ہرنائی میں بنائی گئی وولن مل بھی بند پڑی ہے ان کا کہنا ہےکہ دنیا میں اس ہنر کوجد ید ٹیکنالو جی سے ہم آہنگ کرکےزرمبادلہ کمایاجا رہا ہے۔
پناہ بلو چ کا کہنا ہے کہ ایک سروےکےمطا بق بلو چستان میں 14لاکھ سےزائد بھیڑیں اگرجدیدطریقہ کارکے ذریعے ان کی اون اتاری جائے اور وولن مل ہرنا ئی کوفعال کیا جا ے تو اس صنعت سے وابستہ افرا دپر روز گار کےراستےایک مرتبہ پھر کھل سکتے ہیں۔