اسلام آباد، ہمیں وسائل کا رخ علاج معالجہ سے زیادہ بیماریوں کی روک تھام کی جانب مورنا ہوگا، صدر مملکت
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے صحت کے شعبہ میں تحقیق کی ضرورت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں وسائل کا رخ علاج معالجہ سے زیادہ بیماریوں کی روک تھام کی جانب موڑنا ہو گا، پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے ایسی تحقیق ہونی چاہیے جس سے ملک کی صنعت و دیگر شعبے بھی استفادہ کر سکیں،بیماریوں سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے متعلق لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے میڈیا کے ذریعے باضابطہ مہم شروع کی جائے۔
مقامی ہوٹل میں منعقدہ پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل اور وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کے زیراہتمام پہلی سالانہ ہیلتھ ریسرچ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ شعبہ میں تحقیق وقت کا تقاضا ہے، پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل کی ساتھ ساتھ تحقیق کے لئے دیگر اداروں کی بھی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی۔ صحت سے متعلق پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے تحقیق ضروری ہے تاہم ایسی تحقیق ہونی چاہیے جس کا استعمال بھی ہو سکے اور ملک کی صنعت و دیگر شعبے اس سے استفادہ کر سکیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن عامر محمود کیانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرکاری سطح پر صحت کا شعبہ وہ کارکردگی نہیں پیش کر سکا جو کرنا چاہیے تھی، اس کی ایک وجہ کم بجٹ بھی ہے۔سگریٹوں پر ٹیکس میں اضافہ کی تجویز انہوں نے بھی دی تھی کیونکہ تمباکو نوشی کے استعمال سے صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں، اس کا مقصد تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
وفاقی سیکرٹری زاہد سعید نے صحت کے شعبہ میں تحقیق کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے کانفرنس کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ پلاننگ اور پالیسی سازی کے لئے کانفرنس کی سفارشات معاون ثابت ہوں گی