Sep 24, 2018 07:30 pm
views : 558
Location : Supreme Court Of Pakistan
Islamabad- Naqeebullah Murder Case in Supreme Court
اسلام آباد، نقیب اللہ محسود قتل کیس میں جے آئی ٹی کیخلاف راؤ انوار کی درخواست نمٹا دی گئی
سپریم کورٹ آف پاکستان نے نقیب اللہ محسود قتل کیس میں جے آئی ٹی کیخلاف را انوار کی درخواست نمٹا دی۔ پیر کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سابق ایس ایس پی ملیر را ﺅ انوار کی نقیب اللہ محسود قتل کیس میں جے آئی ٹی کیخلاف درخواست کی سماعت کی،راوانوارکے وکیل نے جے آئی ٹی کی ساخت کو چیلنج کررکھا تھا۔را ﺅانوار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ میں درخواست واپس لینا چاہتا ہوں،عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر معاملہ نمٹا دیا۔
سپریم کورٹ کے باہر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سماجی کارکن جبران ناصر کا کہنا تھا کہ آج سے چھ ماہ قبل 21 مارچ کو راؤ انوار کی گرفتاری واقع ہوئی، اس کے بعد راؤ انوار نے نقیب اللہ کیس کے اندر تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی لیکن آج چھ ماہ گزرنے کے بعد وہ اپنی درخواست کو واپس لینے کا کہتے ہیں۔
پشتون جرگے کے رکن سیف الرحمٰن کا کہنا تھا کہ جتنا عرصہ بھی نقیب اللہ محسود قتل کیس چلا اس پر سندھ پولیس اثر انداز ہوتی رہی ہے۔ راؤ انوار کہتا ہے کہ میں پوسٹنگ لینے جارہا ہوں اس طرح کی باتوں سے مقتول کے اہل خانہ کی دل آذاری ہوتی ہے۔ قاتل راؤ انوار کو پولیس کی تین کمیٹیاں ملزم نہیں مجرم گردان چکی ہیں لیکن وہ اپنی مرضی کی پوسٹنگ کی درخواستیں لیتا پھررہا ہے۔ راؤ انوار ایک دن کیلئے بھی جیل نہیں گیا، سندھ پولیس کو یہ دوہرا معیار ختم کرنا ہوگا۔
مقتول نقیب اللہ محسود کے والد کا کہنا تھا کہ میں انصاف کے حصول کیلئے ہر جگہ جاؤں گا، قاتل چھ ماہ کے عرصے کے دوران دو مرتبہ بھی حاضر نہیں ہوا، انصاف کے منتظر اہل خانہ مایوس ہیں۔