پشاور، پاکستان میں پیدا ہونے والے افغانیوں کی تیسری نسل کو شہریت دی جائے ، اسفند یار ولی
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے افغانیوں کی تیسری نسل کو شہریت دی جائے جو کہ عالمی قوانین کا تقاضا ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں پیدا ہونے والے بچے کو وہاں کی شہریت دی جاتی ہے۔
اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسفند یار ولی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں جتنے ڈیم بنانے ہیں بنالیں مگر سپریم کورٹ چاہے مجھ پر آرٹیکل 6 لگادے میں اس کے باوجود کالا باغ ڈیم کی مخالفت ضرور کروں گا۔ میرے لئے غداری کا داغ کوئی نئی بات نہیں ہے، 1947ء سے سنتے ہوئے آرہا ہوں کہ غدار ہیں، غدار ہیں، غدار ہیں، کیا ہوا اگر میں بھی اپنے آباؤاجداد کی طرح ہوجاؤں گا ، یہ تو میرے لئے فخر کی بات ہے۔
اسفند یار ولی نے بھارتی آرمی چیف کے بیان کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاک سرزمین کی حفاظت کیلئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے پرامن افغانستان کے بغیر پرامن پاکستان ناممکن ہے ویسے ہی پرامن افغانستان پرامن پاکستان کے بغیر ناممکن ہے۔