اسلام آباد، نئی نسل کو اسلام کی روشن تاریخ اور اسلاف سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، وفاقی وزیر مذہبی امور
وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پیر نور الحق قادری سے
پاکستان میں ازبکستان کے سفیر فرقت صدیقوف نے
ملاقات کی۔
وزارت مذہبی امور کے دفتر میں ہونے والی ملاقات میں دو طرفہ
تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات میں
وزارتِ مذہبی امور کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری زینت حسین بنگش بھی موجود تھے۔
اس موقع پر ازبکستان کےسفیر سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیر نور الحق
قادری کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ازبکستان مذہبی اور ثقا فتی رشتوں سے جڑے ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات برادرانہ اور مثالی ہیں ۔اس موقع پر دونوں
رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مذہبی زیارات کے حوالے سے سیاحت
کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے مفاہمتی
یادداشت بھی تیار کر لی گئی ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور کے رواں سال دورہ
ازبکستان کےموقع پر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر نے
کہا کہ سمرقند ، بخارہ سمیت ازبکستان کے کئی شہروں میں برگزیدہ شخصیات کے
مزارات موجود ہیں جہاں پاکستانی حاضری دینے کو سعادت سمجھتے ہیں اس لیے
ویزہ کے حصول اور دیگر آسانیاں دینے سے مذہبی سیاحت کو فروغ ملے گا۔ ملاقات
میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان علما و مشائخ کے وفود کا تبادلہ کرنے
پر بھی بات چیت ہوئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلامی تعلیمات حاصل کرنے والے
دونوں ملکوں کے طلبا کو سکالرشپ دینے اور داخلے کے حصول کا آسان طریقہ کار
وضع کرنے سے بھی دونوں ملکوں کو طلباء کو تعلیم کے حصول میں آسانی ہو گی۔
اس حوالے سے باقاعدہ میکنزم بنا نے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
سفیر نے بتایا
کہ ازبک عوام پاکستان میں مغل تعمیرات اور مساجد میں خصوصی دلچسپی رکھتی
ہے۔ ازبکستان مغل تعمیرات اور تاریخی مساجد کی بحالی میں تعاون کیلئے تیار
ہے۔ ازبکستان مزار شریف اور کابل کے رستے گوادر تک بلٹ ٹرین کی تعمیر کا
خواہشمند ہے ۔
سفیر نے بتایا کہ امام بخاری کی خدمات کو خراج تحسین
پیش کرنے کیلئے امام بخاری سینٹر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ تمام مسلم
اقوام کو قریب لانے کیلئے "اسلامی تہذیبوں کا مرکز" قائم کر رہے
ہیں۔ازبکستان میں حضرت دانیال اور امام ترمزیؒ کے مزارات بھی ہیں۔ ازبکستان
میں خطہ کے بہترین مدارس اسلام کی اشاعت میں مصروف عمل ہیں۔ ازبکستان کی
درسگاہوں میں اقبال اور اُردو کے شعبہ جات کام کر رہے ہیں۔