کراچی، سندھ اسمبلی کا اجلاس، پورا کراچی پیاس سے تڑپ رہا ہے
سندھ
اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں پیپلز
پارٹی کی رکن سعدیہ جاوید کی جانب سے تحریک بحالی جمہوریت کے شہید
کارکنوں کیلئے دعا کی درخواست کی گئی۔
ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی
کنور نوید جمیل کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنج کا
سامنا ہے، سول اسپتال، جناح اور این آئی سی وی ڈی وفاقی حکومت نے بنائے
ہیں، تعلیم پر دو سو آٹھ ارب روپے رکھے گئے ہیں،کراچی میں بڑی تعداد بچے
پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھتے ہیں،بیشتر سرکاری اسکولوں میں بیت الخلا، صاف
پانی اور پنکھے کی سہولیات نہیں ہیں، جان بوجھ کر یہ سہولیات نہیں دی جارہی
ہیں تاکہ یہ بچے بھی پرائیویٹ اسکولوں میں چلے جائیں، کچھ تو بجٹ کا حصہ
کراچی پر خرچ کیا جائے تاکہ یہ کالونی نہ لگے۔
کنور
نوید کا مزید کہنا تھا کہ پورا کراچی پیاس سے تڑپ رہا ہے، کے فور دو ہزار
سات میں منظور ہوا تھا اور تیرا میں شروع کیا گیا، واٹر ٹینکر پیپلزپارٹی
کے چیدہ چیدہ لوگوں کو فراہم کیا جاتا ہے، ہمارے جیسے لوگ پانی خرید کر
استعمال کرتے ہیں،کراچی میں ہر سال پانچ سو ارب کا پانی بکتا ہے،کراچی میں
پانی کی تقسیم کو منصفانہ بنانے کی ضرورت ہے،کراچی کے ایک حصے کو ایک دن
اور دوسرے حصے کو دوسرے دن پانی فراہم کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئندہ کراچی میں پانی پر
فسادات شروع ہوسکتے ہیں،پانی کی تقسیم کو منصفانہ بنا کر معاملے کو بہتر
کیا جاسکتا ہے،ریونیو کا نوے فیصد حصہ کراچی سے وصول کیا جاتا ہے، جب بھائیوں میں مساوات نہ ہو تو بیچ میں دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں، اسمبلی میں اپنی برتری کی طاقت سے ہمیں کب تک دبائیں گے۔
پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی علیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ قیادت پر ذاتی
زندگی پر بات نہ کئی جائے پالیسیز پر بات کی جاسکتی ہے،نہ میرا لیڈر ولی
ہے نہ آپ کی قیادت، ہمیں ایشوز پر بات کرنے پر برداشت کرنا ہوگا،تھر میں
بچے مررہے ہیں اسپتال میں ایک بیڈ پر چار چار بچے موجود تھے ،تھر کے اسپتال
کے ڈاکٹرز بول رہے تھے کہ مدد کروائیں اضافی بیڈ دلوائیں ،مٹھی اسلام کوٹ
و دیگر علاقوں کے ڈسپینسری میں کچھ نہیں ،ڈسپینسری میں نہ ڈاکٹرز ہیں نہ
دوائیاں تھر کے عوام بڑی تکلیف میں ہیں ۔