کراچی، اقوام عالم کی دوڑ میں ہم بہت پیچھے ہیں، فردوس شمیم نقوی
سندھ
اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج
اس ایوان میں جتنے لوگ بیٹھے ہیں ، وہ سب میرے بھائی ہیں۔ اقوام عالم کی
دوڑ میں ہم بہت پیچھے ہیں۔
آج فی کس آمدنی بارہ سو روپے ہے، چین کہاں
پہنچ گیا، چین اور ہم میں کیا فرق ہے، سنگاپور پاکستان کے مقابلے میں بہت
چھوٹا ملک ہے، سنگاپور میں بیالیس لاکھ لوگ رہتے ہیں،سنگاپور کی درآمدات
تین سو تیس بلین کی ہیں،اس کی وجہ اس کا بہترین انفراسٹرکچر ہے، اس کی شرح
خواندگی سو فیصد ہے، رہائش کی سہولیات دنیا کے بہترین ممالک کی سی ہیں۔
فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ آج کے تاریخ دان یہاں بیٹھے ہیں۔ مجھے
جواب دیا جائے کہ میرا ملک چین اور سنگاپور جیسا کیوں نہیں، بنگلہ دیش جو
ہمارا حصہ تھا، آج وہ بھی ہم سے آگے ہے۔ ہم اس مقام پر کیوں نہیں جہاں آج
ہمیں ہونا چاہئے تھا، ہم ترکی ، ملائشیا یا انڈونیشیا جیسے کیوں نہیں بن
سکے، اگر کچھ بننا ہے تو بڑے خواب دیکھو، اسی سے آگے بڑھو گے۔ نئے پاکستان
کی بات ، یہی بات ہے۔ یہی بات وزیرا عظم عمران خان نے کی۔
فردوس شمیم نقوی کا مزید کہنا تھا کہ میں نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
سےوزیر اعلیٰ ہاؤس میں کہا تھا کہ میں لڑنے نہیں آپ کا ہاتھ بٹانے آیا
ہوں۔ میں انکارپوریٹ سیکٹر کا آدمی ہوں، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے
ہیں، جب تک آپ کو یہ پتہ نہیں ہوگا کہ آپ کہاں ہیں، آپ آگے نہیں بڑھ سکتے،
اپنا ہدف طے نہیں کریں گے تو مستقبل کا پلان نہیں بنا سکتے، وقت پر اپنا
ہدف حاصل کرنا ایک حکومت کی کامیابی ہوتی ہے۔
فردوس شمیم نقوی کا یہ بھی کہنا تھا کہ تعلیم،
صحت، انصاف اور روزگار کے معاملات بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ میرے جی ڈی اے
کے دوست نے کہا تھا کہ عوام سے تقریر اردو میں کرنی چاہئے، سندھی میں تقریر
کر سکتے ہیں، اس پر اعتراض نہیں، میں چاہتا ہوں کہ پورا پاکستان سنے اور
سمجھے،ہم اچھے کاموں کی تعریف کریں گے۔ تھر کوئلہ نکالنے کا منصوبہ بے نظیر
کا تھا،اس پروجیکٹ کو روک دیا گیا، پاکستان پیچھے رہ گیا۔ فردوس شمیم نقوی